اکبر بگٹی کی ہلاکت سے ’خرابی میں اضافہ ہوا‘

Image caption صوبے میں حالات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کی باتیں بھی کی گئیں لیکن کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی

بلوچ رہنما اکبر بگٹی کو فوجی آپریشن میں ہلاک ہوئے ایک دہائی مکمل ہو گئی ہے لیکن ان کی ہلاکت کے بعد جس بدامنی نے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا وہ اب بھی بہت حد تک موجود ہے۔

26 اگست 2006 کو تراتانی کے پہاڑی علاقے میں فوجی آپریشن کے دوران جسں میں سردار اکبر بگٹی ہلاک ہوئے صوبے میں جہاں سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملے بڑھے وہیں آبادکاروں پر بھی حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔

حکام کی جانب سے حالات کی بہتری کے دعوؤں کے باوجود نہ صرف بد امنی کے واقعات کمی و بیشی کے ساتھ رونما ہوتے رہے ہیں بلکہ وسائل کی کمی سے دوچار بلوچستان میں امن و امان کی مد میں اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کے قومی دھارے کی دو بڑی جماعتیں پپپلز پارٹی اور ن لیگ صوبے میں مشرف حکومت کی پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتی آئی ہیں لیکن قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 میں مشرف دور کے خاتمے کے بعد صرف حکومتیں تبدیل ہوئیں اور بلوچستان کے حوالے سے مشرف دور کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوئیں۔

Image caption سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اقدامات سے بلوچستان کے حالات بہت زیادہ بہتر ہوئے ہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ بھی سنہ 2008 میں شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔

بلوچستان حکومت کے ذرائع کے مطابق 2010 سے لے کر اب تک ایک ہزار کے لگ بھگ لوگوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں لیکن اس کے برعکس لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق ان کی تعداد کئی ہزار ہے۔

بلوچستان کے سینیئر تجزیہ نگار سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت بلوچستان کے خراب حالات مزید دگرگوں ہونے کی بڑی وجہ بنی۔

’اصل میں بلوچستان میں صورتحال 2002 میں خراب ہونا شروع ہوئی جب نواب خیر بخش مری کو جسٹس نواز مری کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن تب صورتحال اتنی خراب نہیں تھی۔‘

Image caption سلیم شاہد کے مطابق شاید وہ تمام سٹیک ہولڈرز جو بات چیت کے نتیجے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں وہ ایک صفحے پر نہیں ہیں

ان کا کہنا تھا کہ جب اکبر بگٹی کو فوجی آپریشن میں ہلاک کیا گیا تو صورتحال وقت کے ساتھ ساتھ بگڑتی چلی گئی۔

سلیم شاہد کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں قیام کے دوران بھی ’اکبر بگٹی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کے بعد جس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی حکومتوں کی کوششیں کیں، حکومتوں نے یہ تو کہا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سنجیدگی کے ساتھ وہ کوششیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔‘

صوبے میں حالات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کی باتیں بھی کی گئیں لیکن کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

سلیم شاہد کے مطابق شاید وہ تمام سٹیک ہولڈرز جو بات چیت کے نتیجے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں وہ ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ دونوں جانب عدم اعتماد کی کیفیت ہے جس کو بحال کرنا نہایت اہم ہے۔ ‘

تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ’مذاکرات کے نتیجے میں فراریوں کی دوسرے درجے کی قیادت مسلح کارروائیوں کو ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو رہی ہے۔‘

Image caption وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کہتے ہیں کہ ’پہلے کے مقابلے میں بلوچستان کی صورتحال میں 95 فیصد بہتری آئی ہے‘

بلوچ قوم پرستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے بعد بلوچستان میں آپریشن میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ قوم پرستوں کا دعویٰ ہے جسے حکومت نہیں مانتی کہ نہ صرف نو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے بلکہ اب سخت گیر موقف کے حامل قوم پرستوں کے لیے جمہوری طور پر احتجاج کے راستے بھی بند ہوگئے ہیں۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اقدامات سے بلوچستان کے حالات بہت زیادہ بہتر ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کہتے ہیں کہ ’پہلے کے مقابلے میں بلوچستان کی صورتحال میں 95 فیصد بہتری آئی ہے۔‘

بعض مبصرین کی یہ رائے ہے کہ نواب بگٹی اور ان کے بعد بعض دیگر بلوچ رہنماؤں کے مارے جانے کے واقعات نے بلوچ آبادی والے علاقوں میں جس ناراضی کو جنم دیا بلوچستان تاحال اس کے اثرات سے نہیں نکل سکا۔

اسی بارے میں