’ہم بھی پونزابی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa

ایک برس پہلے تک انڈیا میں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے جے ہند کا نعرہ لگانا کافی سمجھا جاتا اور یہ نعرہ تمام ہندو اور مسلمان بلا جھجھک لگاتے تھے۔ لیکن اب آر ایس ایس کا زور ہونے کے سبب محض جے ہند کافی نہیں۔ آپ کو بھارت ماتا کی جے بھی کہنا پڑے گا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ وہ بھارت کو تو مانتے ہیں مگر بھارت ماتا کو دیوی کا درجہ نہیں دے سکتے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی سے کم محبِ وطن ہیں۔ جے ہند۔

دو تین روز پہلے مقامی ٹی وی چینلز کے خبرناموں میں دکھایا گیا کہ دہشت گردی، بھتہ خوری و تشدد وغیرہ وغیرہ کے الزام میں ایم کیو ایم کے کارکن قطار میں ایک دوسرے کے کاندھوں پر ہاتھ دھرے بصورتِ ریل گاڑی عدالت میں پیش کرنے لے جائے جا رہے ہیں اور وہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔

آج اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ ایم کیو ایم کی تین جیالیوں کو پاکستان مخالف نعرے لگانے اور اے آر وائی چینل میں توڑ پھوڑ کے الزام میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ تینوں خواتین نے عدالت سے واپسی پر میڈیا کے سامنے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

بلوچستان سے کوئی اور اچھی خبر آئے نہ آئے مگر یہ خبر قومی میڈیا میں ہر سال نمایاں ہوتی ہے کہ صوبے کے طول و عرض میں یوم آزادی شاندار طریقے سے منایا گیا۔ کوئٹہ میں چودہ اگست کی تقریبات میں عوام نے بھرپور انداز میں شرکت کی اور آتش بازی کا زبردست مظاہرہ ہوا۔

سوات میں سنہ 2009 میں طالبان کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کے بعد منگورہ و سیدو شریف میں کوئی ساکت و متحرک شے ایسی نہ تھی جس پر سبز و سفید رنگ نہ پھیرا گیا ہو۔ حالانکہ سواتی آپریشن سے پہلے بھی اپنی مرضی سے ہی پاکستانی تھے اور بعد میں بھی پاکستانی ہی رہے۔ میں نے منگورہ میں ایک چپلی کباب فروش سے پوچھا کہ تم نے اپنے فولادی کڑھاؤ پر خود سبز و سفید رنگ کیا یا کسی کے کہنے پر۔ بولا ’ تم ہم سے خوامخواہ بس کباب مباب لینے کا بات کرو‘۔

کسی ستم ظریف کے بقول جب مشرقی پاکستان میں ایک سپاہی کو کسی گاؤں کے باہر ایک جھاڑی ہلتی سی محسوس ہوئی تو اس نے بندوق تان کر للکارا ہینڈز اپ، ورنہ گولی مار دوں گا۔ ایک دھوتی بنیان پہنا شخص ہاتھ اونچے کر کے جھاڑی کے پیچھے سے کانپتا ہوا نکلا اور کہا ’ہم کو گولی ناہیں مارنا صاب۔ ہم بھی پونزابی ہے۔‘

اس وقت اگر کوئی ایم کیو ایم کے حامیوں، ووٹروں یا محض اردو بولنے والوں کی مدد کرنا چاہتا ہے تو پھر ماں سے زیادہ چاہنے اور پھپھے کٹنی بننے کی ضرورت نہیں۔ ان کا میڈیائی ہانکا کرنے، حب الوطنی یا وطن دشمنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے یا ازسرِ نو پاکستان سے محبت کا کلمہ پڑھوانے یا ان کا نظریاتی محاصرہ کرنے کے بجائے یہ طے کرنے کی آزادی اور وقت دیا جائے کہ وہ اپنے لیے کس طرح کا سیاسی مستقبل اور قیادت چنتے ہیں۔

ہر کسی کو ایک ہی جیکٹ فٹ نہیں آتی حضور۔ ہر کوئی ایکسٹرا لارج نہیں ہوتا جناب۔

اسی بارے میں