گلگت بلتستان: ’عوامی ایکشن کمیٹی کے دو رہنما گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Awami Action Committee GB

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور کوآرڈینیٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اتوار کو عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ گلگت تھانہ سٹی پولیس نے چیئرمین سلطان رئیس اور کوآرڈینیٹر فدا حسین کو گرفتار کیا۔

اس سے قبل عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنماؤں اور ممبران کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت غیر قانونی ہڑتال اور ریلی نکالنے پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

سکردو سے مقامی صحافی موسیٰ چونکھا کے مطابق گلگت بلتستان کے آئی جی پولیس کے دفتر سے جاری بیان میں کہاگیا تھا عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنماؤں اور ممبران کے خلاف سٹی تھانہ میں قومی ایکشن پلان کے تحت مجسٹریٹ کے مراسلے پر 15 اگست 2016 کو گلگت میں غیر قانونی ہڑتال اور ریلی نکالنے پر ایف آئی آر درج کی گئی۔

Image caption 15 اگست کو عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال کے گئی تھی

تھانہ سٹی ہی میں ایک اور مقدمہ مورخہ 26 اگست کو روڈ بلاک کر کے دھرنا دینے اور حکومت کے خلاف تقاریر کے ذریعے عوام میں اشتعال پیدا کرنے کے الزام میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران و رہنماؤں کے خلاف درج کیا گیا۔

اس مقدمے میں سلطان رئیس، یعسب الدین، غلام عباس، فدا حسین اور نظام الدین شامل ہیں۔

خیال رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے 15 اگست کو ہڑتال اور 26 اگست کو احتجاجی دھرنا دیا تھا۔

اس ضمن میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ بھی جاری کیا گیا جن میں اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کی موجودہ آئینی، جغرافیائی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حصہ دیا جائے، گلگت بلتستان میں عائد کیے جانے والے تمام ٹیکسوں کو واپس لیا جائے، گندم سمیت 23 دیگر اشیا ختم کی جانے والی سبسڈیز کی بحالی، گلگت بلتستان کے حدود کے تنازعات کا حل اور تحفظ کے علاوہ میڈیکل اور انجینیئرنگ کالج اور یونیورسٹی کا قیام اور وفاق میں تعلیمی کوٹہ بڑھانے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

اسی بارے میں