جنھیں کوئی جانتا نہیں ہے تو بات کیا سنے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ’انڈیا کی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے 22 ممبر پارلیمان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ان 22 اراکین پارلیمان کو خصوصی نمائندوں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے جو دنیا کے اہم ممالک میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کریں گے۔

وزیراعظم نے ان اراکین پر زور دیا کہ وہ ’دنیا بھر میں کشمیر کے نصب العین کو اجاگر کرنے کی کوششیں یقینی بنائیں تاکہ وہ اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کو جھنجوڑ سکیں‘۔

٭ کشمیر کی آواز اٹھانے کے لیے 22 اراکیم پارلیمان منتخب

٭ ’کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں ہے‘

٭ ’امید ہے کہ کشمیر میں تشدد روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش ہو گی‘

ان میں چند ہی ایسے رکن قومی اسمبلی اور ممبر سینیٹ ہیں جن کے نام دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وہ وزیر اعظم، جو وزیر خارجہ کا قلمدان بھی رکھے ہوئے ہیں، کی جانب سے دیے گئے اس اہم فرض کو نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سابق سفیر ظفر ہلالی سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نے پارلیمانی ممبران کی کمیٹی بنا کر اچھا قدم اٹھایا ہے لیکن یہ کمیٹی زیادہ موثر ہوتی اگر اس میں زیادہ پڑھے لکھے افراد کو بھی شامل کیا جاتا۔

’میرے خیال میں یہ اچھی بات ہے کہ حکومت کشمیر مسئلے کو پراجیکٹ کر رہی ہے۔ اس کمیٹی میں ممبر پارلیمان کو لیا گیا ہے لیکن زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کو منتخب کیا جاتا جن میں عوامی شخصیات اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے شامل ہوتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ کشمیر کی آواز اٹھانے کے لیے قائم کمیٹی میں ایک دو اراکین ہی ایسے ہیں جن کو عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔

’باقیوں کی کوئی ملک میں بات نہیں سنےگا تو بیرون ملک کون سنے گا۔ یہ ممبران جب بیلجیئم یا جنوبی افریقہ یا دیگر ممالک میں جائیں گے تو پہلے وہاں کے حکام ویکیپیڈیا میں دیکھیں گے کہ یہ ہیں کون۔‘

لیکن یہ کوشش کس قدر کامیاب ہو گی کے سوال پر ظفر ہلالی کہتے ہیں کہ ہر کوشش کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے اور کوشش کرنی ضروری بھی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہر ملک اب بھی اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھے گا لیکن کوشش پھر بھی کرنی چاہیے کہ دنیا کو صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GettyImages

’نہ تومسلمان ممالک کے پلیٹ فارم او آئی سی اور نہ ہی دنیا کے طاقتور ور ترین ایوان اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشش کی گئی یا مذمت کی گئی۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ان کو شکایت سے مسلمان ممالک سے نہیں مغربی ممالک سے ہے جو انسانی حقوق کے چیمپیئن بنتے ہیں۔ ’انڈیا 70 سال سے ایسا کر رہا ہے۔ مجھے زیادہ گلہ مغرب سے برطانیہ اور امریکہ سے ہے، اور صدر اوباما تو انڈیا کو مزید شہہ دے رہے ہیں۔‘

سابق سفیر عزیز خان کہتے ہیں کہ کوشش کرنی ایک چیز ہوتی ہے اور اس کی کامیابی دوسری۔ ’اس قسم کے پیچیدہ معاملات کے حل میں وقت لگتا ہے۔ کوشش کے لیے یہ ایک اچھا قدم ہے کہ پارلیمانی وفد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے مظالم کو مختلف ممالک میں جا کر اجاگر کریں تاکہ عالمی سطح پر اس حوالے سے مزید رد عمل آئے۔‘

اس حوالے سے تجزیہ کار ایاز امیر کا کہنا ’ہم دکھاوے کے بہت ماہر ہیں۔ کمیٹیاں بنا دیں لیکن ان کمیٹیوں کا صفر بٹا صفر اثر ہوتا ہے۔‘

ایاز امیرنے کہا کہ جب ذوالفقار علی بھٹو اور انڈیا کے اس وقت وزیر خارجہ سورن سنگھ مذاکرات کرتے تھے تو ’اس وقت تو کوئی 20 ممبر یا 22 ممبر کمیٹیاں نہیں ہوتی تھی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ

دنیا بھر میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس کا ایک الگ وزیر خارجہ نہ ہو جو انٹرنیشنل ریلیشنز میں تیزی سے ہوتی تبدیلیوں کو دیکھ سکے اور اس حوالے سے پالسیاں بنا سکے۔

کیا وزیر اعظم کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ بطور وزیر خارجہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں تیزی سے ہوتی تبدیلیوں کے لیے وقت نکال سکیں؟

ایاز امیر اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایسے اہم معاملات میں وزیر خارجہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ’جب امریکی وزیر خارجہ روسی ہم منصب سے ملتا ہے یا روسی صدر پوتن سے ملتا ہے تو پوتن اس کی بات سنتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کیری کی ایک شخصیت ہے اور عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں