پولیس کی حراست میں ایم کیو ایم کا کارکن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس قسم کے واقعات منفی پیغامات دے رہے ہیں جس سے عوام میں احساس محرومی پیدا ہورہا ہے: خواجہ اظہار الحسن

پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومت موومنٹ کے کا کہنا ہے کہ اُن کے کارکن محمود خان پولیس کی زیر حراست تشدد کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں اور آئی جی سندھ نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ایم کیو ایم کے کارکن محمود خان کو چند روز قبل کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق ملزم کی سول ہپستال میں دورانِ علاج موت واقعے ہوئی ہے جس کے بعد آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ایسٹ کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے اراکین رابطہ کمیٹی و منتخب نمائندوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان ایم کیو ایم کے سینیئر کارکن تھے اور نیوکراچی فائر بریگیڈ سٹیشن کے ملازم تھے۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ محمود کو 11 اگست کو ڈیوٹی سے ملیر پولیس کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد آج 28 اگست کو اس کی تشدد زدہ لاش سول ہسپتال سے ملی ہے۔

خواجہ اظہارالحسن کے مطابق محمود خان پر 12 مئی سانحہ میں ملوث ہونے کا الزام تھا لیکن کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ کسی عدالت میں پیش کیے بغیر انھیں زیر حراست بدترین تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات منفی پیغامات دے رہے ہیں جس سے عوام میں احساس محرومی پیدا ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر فاروق ستار کے سیکریٹری کی رینجرز کی حراست میں ہلاکت کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا تاہم ابھی تک اس تحقیقات کے نتائج سامنے نہیں آئے۔

ملیر پولیس نے ایم کیو ایم کے منتخب میئر وسیم اختر کو بھی 12 مئی 2007 کے واقعے میں ملوث قرار دیا ہے۔ وسیم اخیر ٹارگٹ کلرز کے علاج میں معاونت کے الزام میں بھی مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں