وزیراعظم کے خلاف پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں درخواست

پاکستانی پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پانامالیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام آنے کے بعد میاں نواز شریف کی نااہلی سے متعلق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے۔

٭وزیراعظم کے خلاف پی ٹی آئی کیدرخواستالیکشن کمیشن میں

٭ ’آف شور کمپنی بنائی، اس میں کوئی چیز غیر قانونی نہیں‘

اس درخواست میں وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سیکرٹری داخلہ، قومی احتساب بیورو اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو فریق بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان عوامی تحریک نے وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستیں الیکشن کمیشن میں بھی دائر کر رکھی ہیں جس پر الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم ان کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اور اسحاق ڈار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے چھ ستمبر کو جواب طلب کیا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں پی ٹی آئی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں نے غیر قانونی طریقے سے رقم بیرون ملک منتقل کی ہے بلکہ اُن کے جتنے بھی اثاثے بیرون ممالک میں موجود ہیں اُن کا ذکر بھی میاں نواز شریف نے اپنے گوشواروں میں نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption پاناما لیکس کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی بھی تحریک انصاف کی حامی ہے

اس درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ چونکہ میاں نواز شریف نے ان اثاثوں کا ذکر نہ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے اُنھیں قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا ہے میاں نواز شریف اور اُن کے بچے غیر قانو نی طریقے سے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر منی لانڈرنگ کے مرتکب ہوئے ہیں ۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت نے یہ درخواست وزیر اعظم میاں نواز شریف کی قوم سے کی جانے والی تقریر اور اُن کے بچوں کے مختلف نجی ٹی وی چینلز پر دیے گئے انٹرویو کو بنیاد بنا کر دائر کی ہے جس میں باپ اور بچوں کے بیانات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جس وقت میاں نواز شریف نے پیسہ بیرون ملک بھجوایا جس کے بارے میں اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کا بیان حلفی بھی ساتھ لگایا گیا ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ اُنھوں نے شریف خاندان کو پیسہ بیرون ملک لےکر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اسی بارے میں