فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے مجرموں کی اپیلیں مسترد

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے دہشت گردی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے 16 مجرموں کی اپیلیں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے اُنھیں مسترد کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ان اپیلوں کو مسترد کرنے کے بعد فوجی عدالتوں کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

جن افراد کی اپیلیں مسترد کی گئی ہیں اُن میں پشاور میں آرمی پبلک سکول، راولپنڈی پریڈ لین، کوہاٹ اور نوشہرہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث مجرمان شامل ہیں۔

فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ان اپیلوں پر فیصلہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے20 جون کو محفوظ کیا تھا جسے 29اگست کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سنایا۔

جن مجرموں کی اپیلیں مسترد کی گئی ہیں اُن میں قاری زبیر، تاج محمد، عتیق الرحمٰن، حیدر علی، سخی محمد، فضل غفار، شیر عالم، فیض محمد،سعید الزمان اور محمد غوری شامل ہیں۔

182صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی حالات میں پارلیمنٹ سے 21ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی اس کے علاوہ آرمی ایکٹ میں بھی ترمیم کی گئی۔

اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی عدالتیں آرمی ایکٹ کے تحت کام کر رہی ہیں اور ان عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت کے کسی جج کی کسی ملزم کے ساتھ ذاتی دشمنی یا پھر جانبداری کے شواہد عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان مجرموں کے خلاف مقدمات ایسی نوعیت کے تھے جن کی سماعت فوجی عدالتوں میں ہی ہونا تھی۔

فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ قانون ہے کہ عدالتیں فوجی عدالتوں کی طرف سے جن شواہد کی بنا پر فیصلے کیے گئے ہیں اُن کا جائزہ نہیں لے سکتی اس کے علاوہ ان اپیلوں میں درخواست گزاروں نے طریقہ کار سے انحراف کی بات نہیں کی لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فوجی عدالتوں نے کم شواہد ہونے کی بنا پر فیصلے دیے۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان مقدمات کی سماعت کے دوران مجرموں کو اپنے دفاع میں وکیل بھی فراہم کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ میں ان اپیلوں کی سماعت کے دوران فوجی عدالتوں کی طرف سے دیے گئے فیصلوں کی کاپیاں بھی طلب کی گئیں تھی تاہم مجرموں کے وکلا کو صرف ان فیصلوں کے نوٹ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

اپیلیں خارج ہونے کے بعد ان مجرموں کے پاس اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف صدرِ مملکت کو رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں