’بلوچستان سے لاپتہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہے‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہے۔

دونوں تنظیموں کے عہدیداروں بی بی گل بلوچ ، نصراللہ بلوچ اور ماما قدیر بلوچ نے لاپتہ افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان سے سب سے زیادہ لوگ جبری طور پر لاپتہ ہوئے ہیں۔

* لاپتہ افراد کا معاملہ: ’حکومتی نہیں عدالتی کمیشن چاہیے‘

* کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا احتجاج

حکومتی اداروں کو جبری گمشدگیوں کے لیے موردالزام ٹھراتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شواہد عدالتوں کے سامنے بھی آئے ہیں۔

2008 کے بعد بلوچستان سے بڑی تعداد میں مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے مطابق 2010 سے اب تک ایک ہزار کے قریب لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئر پرسن بی بی گل بلوچ نے مسخ شدہ لاشوں کی تعداد کے بارے میں حکومتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن نے جہاں ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں انھوں نے میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں پر بھی تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا ’بلوچستان سے لاپتہ افراد کا مسئلہ جبری گمشدگی کے عالمی بڑے مسائل میں سے ایک ہے لیکن میڈیا نے اس مسئلے کو دنیا کے سامنے لانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی سول سوسائٹی کی تنظیمیں اس حوالے سے آواز اٹھا رہی ہیں۔‘

حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے بلوچستان سے لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے ان تنظیموں کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے سامنے 98 افراد کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے معاملے کو ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد مہم کا حصہ قرار دیا۔

اسی بارے میں