فاٹا اصلاحات: فاٹا کونسل اور قبائلی علاقوں کے انضمام کے مطالبے

Image caption ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ’وزیر اعظم ہمت کا ملک مرجان کا کہنا تھا وزیر اعظم ہمت مظاہرہ کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم کا اعلان کر دیں وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

فاٹا اصلاحات کے لیے تجاویز کے بعد فاٹا گرینڈ الائنس نے فاٹا کونسل کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جو قبائلی علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی جبکہ دوسری جانب فاٹا سیاسی اتحاد نے خیبر پختونخوا کے ساتھ قبائلی علاقوں کو فوری طور پر ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کو فاٹا گرینڈ الائنس کے سربراہ ملک خان مرجان نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے لیے ان کے ’رواج قانون سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور قبائلی علاقوں کا فیصلہ اس علاقے کے رواج کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

* فاٹا اصلاحات:’ بحث پارلیمنٹ کرے گی، فیصلہ جرگہ کرے گا‘

ملک خان مرجان نے کہا کہ ’فاٹا اصلاحات کمیٹی ان لوگوں پر مشتمل ہے جس میں قبائلی علاقوں کے لوگ شامل ہی نہیں ہیں‘ اس کے باوجود انھوں نے کمیٹی کو تسلیم کیا اور کمیٹی نے ان سے وعدہ کیا تھا کے قبائلیوں کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قبائلی علاقوں کی ایک منتخب فاٹا کونسل قائم کی جائے جو قبائلی علاقوں کے بارے میں قانون سازی کرے اور پھر یہ کونسل فیصلہ کرے کے فاٹا کی الگ حیثیت ہو یا اسے خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کر دیا جائے۔‘

ان سے جب پوچھا کہ قبائلی علاقے کے رہنماوں کے متضاد مطالبات سامنے آ رہے ہیں آپ کچھ بول رہے ہیں اور فاٹا سیاسی اتحاد کے قائدین کچھ اور مطالبہ کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا حل بھی ان کے پاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ’وزیر اعظم ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم کا اعلان کر دیں وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘

ادھر فاٹا سیاسی اتحاد نے اصلاحات کمیٹی کے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔ فاٹا سیاسی اتحاد کا اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام میں تاخیر کے خلاف وہ آٹھ ستمبر کو احتجاج کریں گے۔

فاٹا سیاسی اتحاد کے صدر نثار مہمند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحاد کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ فاٹا اصلاحات کمیٹی کے فیصلوں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے اور اس میں مزید تاخیر وہ برداشت نہیں کریں گے۔

نثار مہمند نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ریفرنڈم تو ہو چکا ہے اصلاحات کمیٹی نے تمام قبائلی ایجنسوں کے نمائندہ افراد کو بلایا تھا اور ان سے ان کی رائے لی گئی تھی جس میں وفاقی وزیر سیفران جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر کے مطابق 71 فیصد نے خیبر پختونخوا کے ساتھ فاٹا کے انضمام کی حمایت کی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا کی روایات کلچر اور طرز زندگی ایک ہی ہے اس لیے یہ تجویز مناسب ہے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ فاٹا اصلاحات کے تمام ایجنسیوں کے نمائندہ افراد سے بات چیت کی گئی اور ان میں سے بیشتر کے فیصلے کو اصلاحات کمیٹی نے ترجیح دی ہے۔

اسی بارے میں