’غلط بیانی‘ کرنے پر حمزہ علی عباسی کو قانونی نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Hamza Ali Abbasai

پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے فیس بک پر بچوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی مبینہ وارداتوں کی نشاندہی کرنے پر ٹی وی اداکار حمزہ علی عباسی کو نوٹس بھجوایا ہے۔

محکمۂ قانون کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ حمزہ علی عباسی نے پنجاب خاص کر لاہور سے اغوا ہونے والے بچوں کی تعداد کو نہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کیا بلکہ اس بات کا بھی ذکر نہیں کیا کہ کتنے بچے اب تک بازیاب ہو چکے ہیں۔

٭ ’مجرے اور آئٹم نمبر میں کوئی فرق نہیں‘

٭ حمزہ کو آئٹم نمبرز پر غصہ کیوں آتا ہے؟

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ حمزہ علی عباسی نے بچوں کی گمشدگی سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا جس کی وجہ سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔

اطلاعات کے مطابق حمزہ علی عباسی کے فیس بک پر فالوورز کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔

نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر حمزہ علی عباسی نے اس معاملے پر پنجاب حکومت سے معافی نہ مانگی تو ان کے خلاف حکومت کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے سائبر کرائم کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی سزا تین سال ہے۔

حمزہ علی عباسی نے پنجاب حکومت کی جانب سے ملنے والے نوٹس کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے بچوں کے اغوا ہونے کی معلومات مختلف اخبارات میں چھپنے والی خبروں سے حاصل کی ہیں۔

اسی بارے میں