ملا منصور کی دستاویزات کی تصدیق، قبائلی رہنما گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع نوشکی میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے افغان طالبان کے امیر ملااختر منصور کی پاکستانی شناختی دستاویزات کی تصدیق کرنے کے الزام ایک قبائلی رہنما کو گرفتار کیا ہے۔

قبائلی رہنما ملک محبوب نور زئی کی گرفتاری سرحدی ضلع قلعہ عبد اللہ سے عمل میں لائی گئی۔

کوئٹہ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ایک افسر نے بتایا کہ ملک محبوب نے کونسلر کی حیثیت سے ملا اختر منصور کے پاکستانی شناختی دستاویزات کی تصدیق کی تھی۔

ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق گرفتاری کے بعد ملک محبوب سے ایک غیر ملکی کو پاکستانی شہریت کی جعلی دستاویزات حاصل کرنے میں مدد دینے پر تفتیش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ نہ صرف ملا اختر منصور کو ولی محمد کے نام سے پاکستانی شناختی کارڈ فراہم کیا گیا تھا بلکہ ان کو سرحدی ضلع قلعہ عبد اللہ سے لوکل سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا تھا۔

اس سے قبل محکمۂ نادرا اور دیگر سرکاری محکموں کے سات سابق اور موجودہ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے بعض بعد میں ضمانت پر رہا ہو گئے۔

یاد رہے کہ افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع نوشکی میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

رواں سال مئی کے آخری میں ان پر اس وقت ڈرون حملہ کیا گیا تھا جب حکام کے مطابق وہ ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان سے گاڑی کے ذریعے کوئٹہ آ رہے تھے ۔

اس حملے میں گاڑی کا ڈرائیور محمد اعظم بھی مارے گئے تھے۔

ہلاک ہونے والے ڈرائیور کے رشتہ داروں کی درخواست پر نامعلوم امریکی حکام کے خلاف نوشکی بھی مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا ۔

اسی بارے میں