چیف جسٹس کا کوئٹہ واقعے پر از خود نوٹس، تفصیلی رپورٹ طلب

Image caption عدالت کا کہنا ہے اس واقعے سے متعلق 20 ستمبر تک تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے آٹھ اگست کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے صوبے کی پولیس کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کو تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے اس واقعے سے متعلق 20 ستمبر تک تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔

عدالت نے اس واقعے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق تفصیلات جمع کروانے کے علاوہ اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی عدالت عظمیٰ کو آگاہ کرنے کے بارے میں حکم دیا ہے۔

کوئٹہ کے سول ہسپتال کے باہر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70 سے زائد ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق وکلا برادری سے ہے۔ اس واقعے میں ایک سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونےوالے بیان میں کہا گیا کہ سانحہ کوئٹہ نے پورے ملک میں عموماً اور بلوچستان میں خاص طور سے گورننس کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کردیے ہیں۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس منظم انداز میں یہ حملہ کیا گیا، اس سے ریاستی مشینری کی کارکردگی پر سوال اُٹھ رہے ہیں جبکہ سکیورٹی انتظامات کی کمی صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی جانب اشارہ ہے، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی انتظامات کی کمی آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت فراہم کی گئی زندگی اور بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

اس از خود نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ کوئٹہ حملے کے بعد کی صورتحال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں تھی، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ واقعے کو بھلایا جاچکا ہے اور مجرموں کو پکڑنے یا اس طرح کےحملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ریاستی وسائل کو استعمال کرنے کے حوالے سے اقدامات نہیں کیے جارہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر کے وکلا اس واقعے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جبکہ کوئٹہ میں اس واقعے کے خلاف وکلا برادری عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان بار کونسل کی درخواست پر پورے ملک کے وکلا نے بھی اس واقعے کے خلاف پارلیمنمٹ ہاوس کے سامنے احتجاج کیا تھا

حکومت کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات میں عدم دلچسپی کی وجہ سے وکلا برادری نے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے کی دعوی کیا تھا تاہم ابھی تک اس بارے میں ابھی تک کوئی عمل اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بیرسٹر فہد ملک کے قتل کے بارے میں بھی از خودنوٹس لیا ہے اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں۔

بیرسٹر فہد ملک کے قتل کے مقدمے میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے ان ملزموں میں سے ایک ملزم راجہ ارشد کو افغانستان فرار ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاکستان کے چیف جسٹس کی حثیت سے اب تک مختلف واقعات پر سولہ از خودنوٹس لیے ہیں جن میں ہسپتالوں کی حالت زار اور مارگلہ کی پہاڑیوں کو دھماکوں سے اُڑانے کے واقعات شامل ہیں۔

اسی بارے میں