اقوام متحدہ کو پاکستان میں مردم شماری نہ ہونے پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی آئین کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے وہ ہر دس سال بعد مردم شماری کا انعقاد کرے

اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی نے پاکستان میں ایک مرتبہ پھر قومی مردم شماری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے ملک کی آبادی کی نسل کی بنیاد پرتازہ ترین تفصیل حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

جنیوا میں گذشتہ دنوں حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے کوششوں کی رپورٹ کے جائزہ کے بعد اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں جلد از جلد انتہائی اہم مردم شماری کا بندوبست کیا جائے۔

کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آبادی کی نسلی ترکیب اور ان کی معاشی و معاشرتی صورتحال کا ڈیٹا مہیا کرے تاکہ کمیٹی ان نسلی گروپس کی صورتحال اور انھیں دی جانے والا تحفظ کےبارے میں معلومات حاصل کرسکے۔

سپریم کورٹ بھی آئندہ عام انتخابات سے متعلق ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران کہہ چکی ہے کہ مردم شماری کے بغیر 2017 کے عام انتخابات کی کوئی افادیت نہیں ہوگی۔ مردم شماری میں تاخیر اب پاکستان فوج کی جانب سے اس عمل کے لیے مناسب فورس مہیا کرنے سے انکار ہے۔

پاکستان کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میں پاکستانی وفد کے سربراہ وفاقی وزیر برائے حقوق انسانی کامران مائیکل نے بتایا کہ آئین کے مطابق ہر شہری کو بلا امتیاز بنیادی تمام حقوق حاصل ہیں۔ اس وجہ سے بقول ان کے پاکستان میں نسلی امتیاز کوئی وجود نہیں رکھتا۔ وفد میں وزیر اعظم کے مشیر قانون بیرسٹر ظفراللہ خان اور اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر سازرہ منصب علی اور خالد مگسی شامل تھے۔

مدارس

پاکستان میں دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب سے متعلق بھی کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ایسے پہلو اب بھی موجود ہیں جو مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے بارے میں نفرت کا سبب بن رہے ہیں۔ کمیٹی نے خصوصاً اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بعض مدارس کسی حکومتی نگرانی کے بغیر اپنا نصاب خود طے کرتے ہیں اور جہاں عسکری تربیت اور بھرتی کا انتظام بھی موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کی کمیٹی نے دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب پر تشویش کا اظہار کیا

اقلیتوں سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے خصوصاً احمدیوں، ہزارہ اور دلت کے خلاف پرتشدد واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں چند مخصوص علاقوں میں علحیدہ رکھا جاتا ہے اور انھیں ملازمتوں، تعلیم اور صحت جیسی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

توہین رسالت کا قانون

کمیٹی نے پاکستان میں توہین رسالت کے قانون سے متعلق رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں جرم کی تشریح مبہم ہے اور اس کا زیادہ استعمال مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ اس نے نوٹ کیا کہ زیادہ تر مقدمات جعلی الزامات کی بنیاد پر عائد کئے گئے ہیں اور ان مقدمات کی پیروی کرنے والے سرکاری وکلا اور ججوں کو قتل کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کمیٹی نے توہین رسالت کے جرم کی مبہم تشریح پر تویش کا اظہار کیا جسے اکثر اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے

پینل نے حکومت اس قانون کے خاتمے اور غلط الزام عائد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیٹی نے پاکستان میں بڑی تعداد میں حقوق انسانی کے کارکنوں، صحافیوں اور وکلا کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، انھیں اغوا کرنے اور قتل کرنے کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے اس کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ حکومت پاکستان اب جنوری 2020 میں اس کمیٹی کو اپنی اگلی رپورٹ پیش کرے گی۔

کمیٹی کو حکومت پاکستان کے علاوہ کئی غیرسرکاری تنظیموں جیسے کہ ایشین لیگل ریسورس سینٹر، سینٹر فار سوشل جسٹس، مائنارٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل اور پاکستان دلت سالیڈیرٹی نیٹ ورک کے نمائندوں نے بھی اپنی تشویش اور تجاویز سے آگاہ کیا۔

اسی بارے میں