سی ٹی بی ٹی: ’اسرائیل پانچ سال میں توثیق کر دے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ سطح پر جوہری تجربات پر عارضی طور پابندی عائدکر دیں: پاکستان

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پہل کرتے ہوئے انڈیا کو جوہری تجربات پر دو طرفہ عارضی پابندی کی تجویز دی ہے اور اب وہ انڈیا کے جواب کا منتظر ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی پر عملدار آمد کی سربراہ لاسینا زیربو نے کہا کہ ’پاکستان انڈیا کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔‘

٭این ایس جی: پاکستان کا موقف کتنا مضبوط؟

٭’رکنیت کو این پی ٹی پر دستخط سے مشروط کرنا درست نہیں‘

یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شمولیت چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ سطح پر جوہری تجربات پر عارضی طور پابندی عائدکر دیں۔

جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی پر عملدار آمد کی سربراہ لاسینا زیربو نے کہا کہ اسرائیل جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے پر پانچ سال کے اندر اندر توثیق کر دے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایران کو بھی اس معاہدے کی توثیق کرنی چاہیے لیکن اس کے لیے مقررہ وقت کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

زیربو نے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے جون میں ملاقات کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کی جانب سے ملنے والے مثبت اشاروں کے بعد میرے خیال میں اس میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال لگے گیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے ایران اور عالمی دنیا کے جوہری معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں ’اس جانب آگے بڑھنے میں اعتماد کی فضا پیدا ہوئی ہے۔‘

لاسینا زیربو نے کہا کہ انھوں نے کئی مرتبہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کی ہے اور تجربات پر پابندی کے لیے ایرانی کافی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔

’میرے خیال میں ایران کا معاملہ یہ ہے کہ کب توثیق کریں، وہ وقت کا تعین اُس وقت کریں جب یہ اُن کے حق میں ہو گا۔ بطور سربراہ کی میں یہ امید کر سکتی ہوں کہ یہ وقت کل بھی آ سکتا ہے۔‘

جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی کے ممبران ممالک کی تعداد 196 ہے اور 183 ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں جبکہ ان 164 ممالک نے اس کی توثیق کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NSG

اس معاہدے پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے کیونکہ دنیا کی آٹھ ممالک جو اٹیمی صلاحیت رکھتے ہیں انھوں نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے۔

ان ممالک میں امریکہ، چین، ایران، اسرائیل، مصر، انڈیا، پاکستان، اور شمالی کوریا شامل ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا میں جوہری صلاحیت رکھنے والے آٹھ ممالک میں شمالی کوریا وہ واحد ملک ہے جس نے اکیسویں صدر میں بھی جوہری تجربات کیے ہیں۔

اسی بارے میں