’پاکستان سے دولتِ اسلامیہ کے خاتمے کا کام جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ ملک میں خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش نے جگہ بنانے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے تاہم اس کے خاتمے کا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے راولپنڈی میں ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ دولت اسلامیہ تنظیم کے تین سو سے زائد اراکین جس میں ان کے امیر حافظ عمر شامل ہیں سب گرفتار ہو چکے ہیں۔

*’چند شدت پسند تنظیمیں داعش کا نام استعمال کر رہی ہیں‘

*’داعش کا نیٹ ورک موجود ہے، مکمل خاتمے میں وقت لگےگا ‘

انھوں نے بتایا کہ اس تنظیم کے پاکستان میں سربراہ حافظ عمر تھے جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے 15 اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ فیصل آباد میں میڈیا کے دفاتر پر حملوں میں بھی ملوث تھے۔ اس کے علاوہ لاہور، سرگودھا اور اسلام آباد میں میڈیا ہاؤسز پر حملوں میں بھی یہ ملوث تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے پاکستان میں تین سو نو افراد میں سے 25 غیر ملکی تھے جن میں افغانستان، عراق اور شام کے شہری بھی شامل تھے۔’ہم نے ان افراد کی سرگرمیوں کی ایک انٹیلیجنس تصویر تیار کی اور گرفتار کیا۔ ان میں 157 جرائم پیشہ افراد بھی شامل تھے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ پریس کانفرنس کے دوران تنظیم کے رہنماؤں کی تصاویر بھی جاری کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ پاکستان میں وزارت خارجہ، اسلام آباد کے ہوائی اڈے، سفارتی علاقے، بعض صحافیوں، سیاستدانوں، سول سوسائٹی کے سرکردہ افراد کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔

’حافظ عمر کے علاوہ علی رحمان عرف ٹونہ، عبدالسلام عرف رضوان عظیم اور خرم شفیق عرف عبداللہ منصوری بھی سرکردہ رہنما تھے۔ ان کے سر پر 25 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔‘

پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے ابتدائی اشارے مختلف شہروں میں وال چاکنگ کے ذریعے دکھائی دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption دولت اسلامیہ تنظیم کے امیر سمیت تین سو سے زائد اراکین گرفتار ہو چکے ہیں

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’یہ لوگ مختلف لوگوں کو وال چاکنگ کے لیے ایک ہزار روپے ادا کرتے تھے۔ لکھنے والوں کے لیے واحد کشش یہ ہزار روپے ہوتے تھے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم نے مل کر ان لوگوں کو یہاں جگہ بنانے کی اجازت نہیں دی ہے۔

’ہماری قوم نے انھیں قبول نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے یہ گھس نہیں سکے ہیں اور اپنی جگہ نہیں بنا سکیں ہیں۔ ان کے خاتمے کا کام ابھی ختم نہیں ہوا اور فوج اسی عزم کے ساتھ ان کے خلاف کارروائی کرتی رہے گی۔ ان کا سایہ بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

اسی بارے میں