بازار جہاں گاہک بھی خواتین اور دکاندار بھی

Image caption ایک مقامی شخص نے اپنی زمین پر بارہ دکانیں بنا کر ان خواتین کو 800 روپے ماہانہ کرائے پر دیں

راولا کوٹ کی نصرت یوسف ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم چلاتی ہیں اور مقامی خواتین بالخصوص خواتین تاجروں کو تحریک دینے میں ان کا اہم کردار ہے۔

وہ پڑھی لکھی تھیں اور ایک سکول میں استانی تھیں لیکن اس دُور دارز گاؤں ’دریک‘ میں ان کے خیال میں انھیں ان کی قابلیت اور تعلیمی اہلیت کے مطابق اجرت نہیں ملتی تھی۔

* خواتین کے لیے ’واؤ‘

انھوں نے 25 مقامی خواتین پر مشتمل خواتین ایک تنظیم بنائی اور خواتین کی فلاح کے لیے کام شروع کیا۔

اپنے ہی گاؤں میں ایک خاتون کی گھر میں بنائی گئی دکان سے متاثر ہو کر اپنے ہی جیسی پڑھی لکھی خواتین کو محض دو یا چار ہزار روپے تنخواہ پر کام کرنے کے بجائے انھوں نے اپنا کاروبار کرنے کا مشورہ دیا۔

انھوں نے مقامی لوگوں اور ان خواتین کو ایک ایسا بازار بنانے کا مشورہ دیا جس میں نہ صرف خواتین دکان دار ہوں گی بلکہ یہاں خواتین ہی خریداری کرنے آئیں گی۔

Image caption نصرت یوسف نے 25 مقامی خواتین پر مشتمل خواتین ایک تنظیم بنائی اور خواتین کی فلاح کے لیے کام شروع کیا

ان کا یہ مشورہ علاقے کے لوگوں کو پسند آیا اور ایک مقامی شخص نے اپنی زمین پر بارہ دکانیں بنا کر ان خواتین کو 800 روپے ماہانہ کرائے پر دیں۔ اس مارکیٹ میں سلائی سنٹر، بوتیک، پارلر، کاسمیٹکس اور جیولری کی دکانوں کے ساتھ ساتھ ایک ٹیوشن سنٹر بھی ہے۔

نصرت یوسف بتاتی ہیں ’ہماری مارکیٹ کو دیکھ کر ایک دوسرے گاؤں میں دو خواتین نے دکانیں کھولی ہیں۔ ہم بھی خواتین کو مختلف ہنرسکھا رہے ہیں جس کے بعد مزید دکانیں بنا کر انھیں دی جائیں گی۔‘

اسی مارکیٹ میں پارلر چلانے والے حلیمہ سرور کا کہنا تھا ’یہاں ایسی مارکیٹ کی بہت ضرورت تھی۔ ایک چھوٹی سی چیز کے لیے بھی گاڑی کی 20 منٹ کی مسافت پر واقع راولاکوٹ شہر جانا پڑتا تھا۔ اور اب اس پاس کے چار دیہاتوں سے خواتین یہاں ہی آتی ہیں۔‘

اس مارکیٹ کے مقبول اور کامیاب ہونے کی بڑی وجوہات میں اس کا چار مختلف دیہاتوں کے لیے قابلِ رسائی ہونا اور یہاں پر موجود ایک پانی کا چشمہ بھی ہے۔

Image caption چار سال کے تجربے نے نبیلہ کو پر اعتماد اور منجھی ہوئی تاجر بنا دیا ہے
Image caption حلیمہ نے اب پارلر کے بعد ایک بوتیک بھی کھول لی ہے

حلیمہ بتاتی ہیں کہ ’صبح اور شام کے اوقات میں سینکڑوں لڑکیاں یہاں تازہ پانی بھرنے آتی ہیں۔ اسی بہانے وہ چند قدم دور اس مارکیٹ میں آکر خریداری بھی کر لیتی ہیں اور میرے پارلر پر بھی آ جاتی ہیں۔‘

حلیمہ نے پارلر سے کام کا آغاز کیا تھا اور اب وہ اس مارکیٹ میں کپڑوں کی ایک دکان بھی چلا رہی ہیں۔

ایک خریدار انوشے کا کہنا تھا کہ ’یہاں دکاندار لڑکیاں ہیں تو ان سے بات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اور یہ ہمیں جانتی ہیں اس لیے اُدھار بھی کر لیتی ہیں۔‘

Image caption اب مقامی خواتین کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے راولاکوٹ شہر نہیں جانا پڑتا
Image caption خواتین کو ڈریس ڈیزائنگ اور بیوٹیشن کے کورسز کے علاوہ ہنر سکھا کر مزید دکانیں بنا کر دینے کا ارادہ بھی ہے

کاسمیٹکس اور جیولری کی دکان چلانے والی نبیلہ خانم نے گو کہ بغیر تجربے کے کام شروع کیا لیکن یہ چار سال کے طویل عرصے کے بعد اب وہ کافی منجھی ہوئی دکان دار محسوس ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’اگر ہمارے لین دین کا طریقہ اچھا نہ ہوتا تو گاہگ کبھی پلٹ کر نہ آتا۔‘

نبیلہ خانم کہتی ہیں ان کے بھائی اور والد نے ان پر اعتماد کر کے ان پر سرمایہ کاری کی۔ ان کے بقول ’علاقے کے لوگ بھی خوش ہیں کہ اس مارکیٹ میں اکیلی لڑکی بھی جاسکتی ہے ورنہ راولاکوٹ تک تو مرد کا ساتھ جانا ضروری تھا۔‘

بینش بی بی بھی یہاں خریداری کے لیے آئی تھیں انھیں بازار کے رش اور مسافت کی نسبت یہاں آنا اچھا لگتا ہے۔

’یہاں کی دکان دار بہت اچھی ہیں اب تو یہ سہیلیاں بن گئی ہیں۔‘

حلیمہ سرور نے بتایا کہ موسم گرما میں یہاں پاکستان بھر سے سیاح آتے ہیں اور اس مارکیٹ کی وجہ سے ان کی خواتین بھی یہاں اکیلے آ کر خریداری کر لیتی ہیں۔

Image caption چند قدم کے فاصلے پر موجود چشمے پر ہر روز آنے والی خواتین بازار کا چکر ضرور لگاتی ہیں

اسی بارے میں