قبائلی خواتین کے حقوق: ’اس کا فیصلہ مرد ہی کریں گے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات تجویز کی گئی ہیں لیکن اس میں ان قبائلی علاقوں کی 50 فیصد آبادی یعنی خواتین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

ان قبائلی علاقوں میں ’چغہ‘ اور ’ژغ‘ کے علاوہ دیگر ایسی روایات ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے اور خواتین کو ان کے حقوق کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی میں شریک کرنے کی ضرورت ہے۔

قبائلی علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے علاج کی سہولیات کسی نعمت سے کم نہیں ہے یا اگر ایسا کہا جائے کہ طبی سہولیات کا حصول قبائلی علاقوں کی خواتین کے لیے ایک عیاشی ہے تو شاید زیادہ غلط نہیں ہوگا۔

بیشتر قبائلی خواتین کو یہ بنیادی سہولت دستیاب ہی نہیں ہے۔ یہاں خواتین کی زچگی کے دوران ہلاکت کی شرح کافی زیادہ ہے۔

تعلیم کا حصول ایک خواب رہا ہے۔ اکثر علاقوں میں تعلیمی ادارے نہیں ہیں یا ادارے ہیں تو وہاں اساتذہ نہیں ہیں۔ ان خواتین کی زندگی کے فیصلے مرد کرتے ہیں۔

Image caption قبائلی علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے علاج کی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔

انیتا محسود ایک سماجی کارکن ہیں اور وہ قبائلی خواتین کے حقوق سلب کرنے کے سخت خلاف ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ کے بعد انیتا محسود اس رپورٹ کے بعض حصوں سے اختلاف رکھتی ہیں۔ انھوں نے اصلاحات کے مسودے میں خواتین کو نظر انداز کرنے پر کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز کو ایک خط لکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے انھوں نے حکومت سے رابطہ کیا ہے تاکہ حکومت کو خواتین کے مسائل سے آگاہ کیا جائے اس کے بعد وہ دیگر فورم پر آواز اٹھائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ میں تو خواتین کو پارلیمان میں شراکت دی جاتی لیکن اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ان اصلاحات سے قبائلی علاقوں میں خواتین کے حوالے سے ’چغہ ژغ‘ اور دیگر اس طرح کی غیر انسانی روایات کا کیا خاتمہ ہو سکے گا؟

یہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا فاٹااصلاحات کے نتیجے میں خواتین فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہو سکیں گی۔

قبائلی علاقوں میں غیر ملکی امدادی اداروں کی جانب سے ایسے کئی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں خواتین کو خود مختار بنانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ لیکن عملی طور پر ایسے منصوبے نظر نہیں آتے کہیں کہیں خواتین کو سلائی کڑھائی سکھانے کے کچھ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

قبائلی خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم پشاور یونیورسٹی میں شعبہ فلسفے کی پروفیسر ثمینہ آفریدی کا کہنا ہے کہ سابق دور حکومت میں انھوں نے صدر زرداری سے ملاقات میں 40 قبائلی خواتین پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دیا تھا تاکہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے خواتین کو مسائل پر ضرور توجہ دی جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ فاٹا کی اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں قبائلی شامل ہی نہیں ہے خواتین تو دور کی بات پھر اس کمیٹی نے قبائلی رہنماوں سے تو رائے لی ہے لیکن کسی قبائلی خاتون سے رابطہ نہیں کیا

Image caption قبائلی علاقوں میں خواتین کو بینادی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں

انھوں نے کہا کہ اس سے یہ کیسے واضح ہو گا کہ قبائلی خواتین کو کیا حقوق چاہییں اس کا فیصلہ مرد ہی کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اب جو اصلاحات تجویز کی گئی ہیں اس میں بعض مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں خواتین مردوں کے ساتھ پیدارواری عمل میں شریک رہتی ہیں لیکن انھیں بینادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔

پشاور میں قائم قبائلی علاقوں کے فاٹا سیکریٹیریٹ میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں خواتین کو خود مختار بنانے کے حوالے سے ایک سیکشن قائم ہے لیکن یہ شعبہ برائے نام ہے اس میں عملی کام نہیں ہو رہا۔

اسی بارے میں