مشاورت کے بغیر فاٹا اصلاحات کس حد تک قابلِ قبول؟

Image caption مشاورت کے عمل کو پہلے اس لیے بھی چیلنجوں کا سامنا ہے کہ ابھی تک بڑی تعداد میں قبائل اپنے علاقوں میں واپس نہیں جا سکے ہیں

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا میں آئینی اصلاحات کے حوالے سے قائم کی گئی کمیٹی نے کسی حد تک قبائلی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک مسودہ تیار کیا ہے۔ حکومت تو مشاورتی عمل سے مطمئن نظر آتی ہے لیکن شاید ایسا نہیں ہے۔

25 اگست کو اسلام آباد میں سرتاج عزیز نے قبائلی علاقوں کے اراکین پارلیمان کو مجوزہ اصلاحات سے متعلق کچھ معلومات دیں لیکن اس موقعے پر انھیں یہ مسودہ دستاویزی شکل میں فراہم نہیں کیا گیا۔

تاہم اجلاس کے بعد فاٹا کے اراکین پارلیمان کی اکثریت سرتاج عزیز کی بریفنگ سے مطمئن نظر آئی۔ ان اراکین میں اورکزئی ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی جی جی جمال اور سینیٹ میں فاٹا کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ ہدایت اللہ خان شامل ہیں، جن کا کہنا تھا کہ اصلاحات میں فاٹا اراکین کی جانب سے دی گئی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے۔

لیکن باجوڑ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی سید اخونزادہ چٹان کو شکایت ہے کہ مجوزہ اصلاحات کے سلسلے میں صحیح انداز سے مشاورت نہیں کی گئی۔ مہمند ایجنسی سے جمعیت علمائے اسلام کے سابق سینیٹر حافظ رشید احمد بھی مشاورتی عمل سے خوش نہیں اور اصلاحات پر ریفرینڈم کے حامی ہیں۔

پاکستان میں تقریباً ہر مسئلے پر اختلاف رائے موجود ہوتا ہے اور فاٹا کے لیے مجوزہ اصلاحات پر اختلاف ہونا فطری بات ہے۔ اس حوالے سے ایک خوش آئند بات اس وقت سامنے آئی جب اصلاحات کی رپورٹ وزیراعظم کی صدارت میں گذشتہ ہفتے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیش کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ اصلاحات پر اتفاق پیدا کرنے کے لیے مسودہ عام کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہو سکا تو اس سے شاید مشاورت نہ کرنے کے اعتراضات کم ہو سکتے ہیں۔

اصلاحات کے لیے وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی پر ایک اور اعتراض اس بنیاد پر کیا گیا کہ اس میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم کئی اراکینِ پارلیمان کا اس حوالے سے موقف تھا کہ کمیٹی کی تشکیل اس لیے درست ہے کہ فیصلوں کا اختیار حکومت کو ہے اور اب جب اصلاحات کے نفاذ کا عمل ہونے جا رہا ہے تو ضرورت پڑنے پر متعلقہ رہنماؤں سے مشاورت ضرور کی جائے گی اور یہ مشاورت ان لوگوں سے کی بھی جائے گی جو قبائلی علاقوں کے مخصوص حالات سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔

مشاورت کے عمل کو پہلے اس لیے بھی چیلنجوں کا سامنا ہے کہ ابھی تک بڑی تعداد میں قبائل اپنے علاقوں میں واپس نہیں جا پائے۔

جہاں مشاورت کا عمل ہوا بھی ہے تو اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ پولیٹیکل حکام نے اصلاحات کے لیے قائم کمیٹی کے دورے کے دوران اپنی پسند کے نامزد افراد کو کمیٹی ممبران کے ساتھ مشاورت کے لیے طلب کیا تھا۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقے شدت پسندی اور فوجی آپریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لوگوں سے مشاورت مجوزہ اصلاحات پر اگر اپنے علاقوں میں نہیں کی گئی تو کم از کم جہاں وہ آئی ڈی پی کی زندگی گزار رہے ہیں، وہیں کی جاتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

مشاورتی عمل میں ایک کمی اس لحاظ سے بھی موجود ہے کہ خواتین جو دہشت گردی اور قبائلی علاقوں کے مخصوص حالات سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں، ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تاجروں، سول سوسائٹی کے ممبران اور طلبہ سے بھی مناسب مشاورت نہیں کی گئی۔

جو تجاویز اس کمیٹی نے عوام کے سامنے رکھی ہیں ان سے لگتا ہے کہ الگ صوبے کی آپشن کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے اور ایک مرتبہ پھر دس سال طویل پروگرام دیا گیا ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں غیر یقینی حالات کی وجہ سے کل کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا وہاں اتنا طویل انتظار کیسے کیا جا سکتا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے صحافی گوہر محسود کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں سے اب بھی تقریباً 30 فیصد بےگھر افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں آ سکے۔

گوہر محسود بھی اصلاحات کے لیے مشاورت کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔ چونکہ اصلاحات ابھی حتمی نہیں ہیں اور مزید مشاورت کی گنجائش موجود ہے، قبائلیوں کے خیال میں یہ مشاورت مخصوص ان قبائل سے نہیں ہونی چاہیے جو پولیٹیکل انتظامیہ کے پسندیدہ تصور کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں