’پاکستان سرمایہ کاری کے لیے پسندیدہ ممالک کی فہرست میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان میں گذشتہ مالی سال کے پہلے دس ماہ کےدوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری میں مجموعی طور پر 77 فیصد کمی واقع ہوئی

پارلیمانی امور کے وزیر شیخ آفتاب احمد نے جمعے کے روز ایوان کو بتایا کہ حکومت ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خصوصی مراعات دے رہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات کے پیشِ نظر پاکستان سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے پسندیدہ ممالک میں سے ایک بن گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں گذشتہ مالی سال کے پہلے دس ماہ کےدوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری میں مجموعی طور پر 77 فیصد کمی ہوئی تھی۔ اس سال مئی میں پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ملک میں امن و امان کی صورت حال ہے۔

اس سلسلے میں پارلیمانی سیکریٹری مریم اورنگزیب نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ پاکستان میں نیم فوجی فورسز اور دیگر سویلین مسلح فورسز کی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت نے دس ارب روپے مختص کیے ہیں تاکہ یہ ادارے دہشت گردی کا موثر مقابلہ کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق 30 ارب روپوں کی مدد سے 28 نئی سویلین مسلح فورسز منظم کی گئی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دارالحکومت اسلام آباد کے لیے 2.7 ارب روپوں کی مدد سے ریپڈ رسپانس فورس بھی تیار کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور امن و امان کی صورت حال قائم رکھنے کے حوالے سے پولیس کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ’تمام صوبوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی محکمے بنا دیے گئے ہیں۔‘

اسی سال جون میں مرکزی بینک کے مطابق توانائی اور تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس میں بالترتیب 51 کروڑ اور 23 کروڑ کی سرمایہ کاری کی گئی۔

تاہم پورٹ فولیو انویسٹمینٹ یعنی بازارِ حصص میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں 146 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ اس سے قبل مالی سال 2014-2015 میں پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 84 کروڑ ڈالر تھا لیکن رواں سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ آنے کے بجائے سرمایہ کاروں نے سٹاک مارکیٹ سے 38 کروڑ ڈالر نکال لیے ہیں۔

اس کے علاوہ بیرونی نجی سرمایہ کاری میں بھی 64 فیصد کی مجموعی کمی دیکھی گئی۔

اسی بارے میں