بھمبر سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جولائی کے مہینے میں پاکستان اور بھارت کے سرحدی محافظوں کے شش ماہی مذاکرات پاکستان کے شہر لاہور میں ہوئے تھے

پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جمعے کے روز پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے بھمبر سیکٹر میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 14 اگست کو پاکستان کے یومِ آزادی کے موقعے پر بھی بھارتی افواج کی جانب سے رات بھر نیزہ پیر سیکٹر میں فائرنگ کی گئی تھی۔

٭ ’مسائل کے حل کے لیے سخت گیر موقف میں لچک ضروری‘

٭ ’پاکستان شدت پسندی کے خلاف دنیا کی مدد کر رہا ہے‘

یاد رہے کہ پانچ ہفتے قبل جولائی کے مہینے میں پاکستان اور بھارت کے سرحدی محافظوں کے شش ماہی مذاکرات پاکستان کے شہر لاہور میں ہوئے تھے۔ ان تین روزہ مذاکرات میں غلطی سے سرحد عبور کرنے والے دونوں ممالک کے شہریوں کی فوری واپسی پر اتفاق کیا گیا تھا اور طے پایا تھا کہ سرحد سے متعلقہ مسائل کو مقامی کمانڈروں کی فلیگ میٹنگز میں حل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

تاہم کئی سالوں سے جاری ان مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کی افواج کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب فائرنگ کے تبادلے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ دو ہفتے قبل پاکستان نے بھارت کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کی شدید تردید کی تھی کہ پاکستان کے لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھارت میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک کے تعلقات حالیہ دنوں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری مظاہروں کے بعد مزید تلخ ہو گئے ہیں

پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے ذریعے دراندازی کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی پالیسی پر قائم ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین دعوے کی صداقت ثابت کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا تھا کہ سیکریٹری خارجہ جے شکر نے پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے انھیں پاکستان سے سرحد پار ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے۔

انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان کےمطابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے حوالے کیے جانے والے احتجاجی مراسلے میں ایک پاکستانی شہری بہادر علی کا حوالہ دیا گیا ہے جسے مبینہ طور پر انڈین قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 25 جولائی کو انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے گرفتار کیا تھا۔

انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق 21 سالہ بہادر علی عرف ابو سیف اللہ لاہور کی تحصیل رائے ونڈ کے گاؤں جیا بگا کا رہائشی ہے۔

انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ دوران تحقیق بہادر علی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے کے بعد انڈیا میں داخل ہوا، اور وہ مسلسل لشکر طیبہ کے ’آپریشنز روم‘ سے رابطے میں تھا جہاں سے انڈین سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ہدایت ملیں۔

اسی بارے میں