قومی اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرارداد منظور

Image caption قرار داد میں نہ صرف الطاف حسین کی مذمت کی گئی ہے بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی نے حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کی ’پاکستان مخالف تقریر‘ کے خلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

جمعے کے روز اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد وفاقی وزیر برجیس طاہر نے ایوان میں پیش کی۔

٭ ایم کیو ایم کے آئین میں ترمیم، الطاف حسین کا نام خارج

قرارداد میں نہ صرف الطاف حسین کے اقدام کی مذمت کی گئی ہے بلکہ اُن کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے مشترکہ طور پر جمع کروائی تھی تاہم ان میں ایم کیو ایم شامل نہیں تھی۔

ایم کیو ایم نے اس معاملے میں الگ سے قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں قرارداد جمع کروائی تاہم اسے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

قرارداد کے متن میں 22 اگست 2016 کو ’پاکستان مخالف‘ نعرے لگانے اور الطاف حسین کی ’اشتعال انگیز‘ تقریر کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ قرار دیا گیا اور میڈیا ہاؤسز بالخصوص اے آر وائی چینل پر حملوں کی ’شدید ترین الفاظ میں مذمت‘ کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاروق ستار نے کہا کہ اُن کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جانا چاہیے

قرارداد میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور پارلیمان، مسلح افواج، میڈیا، عدلیہ اور پاکستان کے دستور کے تحت کام کرنے والے جمہوری اداروں کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

ایوان میں جب یہ قرارداد پیش کی گئی تو ایم کیو ایم نے اس کی مخالفت نہیں کی، تاہم بعدازاں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت نے ملک دشمن نعرے لگوانے پر نہ صرف الطاف حسین کے اس اقدام کی مذمت کی ہے بلکہ اُن سے قطعِ تعلق بھی کر لیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف محب وطن ہے اور اُن کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اُنھیں دیوار سے نہ لگایا جائے اور نہ ہی اجنبیوں جیسا سلوک کیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے اپنی تقریر پر تحریری معافی مانگی ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ تنظیم کے آئین میں بنیادی ترامیم کی گئی ہیں جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کا لندن سیکریٹیریٹ، لندن رابطہ کمیٹی اور تحریک کے بانی الطاف حسین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ایم کیوایم پاکستان کا لندن سیکریٹیریٹ اورتحریک کے بانی الطاف حسین کے ساتھ قطعی کوئی تعلق نہیں رہا‘

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے آئین میں تبدیلی کا اقدام ایم کیوایم رابطہ کمیٹی، مشاورتی کمیٹی، سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل اور پارلیمانی کمیٹی کے باہمی مشورے کے بعد اتفاق رائے سے کیاگیا ہے۔

سرحدی اور ریاستی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین نے نہ صرف مزار قائد کے سامنے قومی پرچم جلایا تھا بلکہ اُنھوں نے پہلے بھی متعدد بار پاکستان مخالف تقاریر کی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ الطاف حسین نے انڈیا جا کر برصغیر کی تقسیم کو تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کی قیادت نے صورتِ حال دیکھتے ہوئے اپنی جماعت کے قائد سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، کیونکہ مقامی قیادت کے علم میں ہے کہ اگر اُنھیں نے ان حالات میں الطاف حسین کا ساتھ دیا تو پاکستانی عوام اُنھیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں