نیاز بہادر اپنے نام کی طرح بہادر

Image caption نیاز بہادر نے کبھی اپنی جسمانی معذوری کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں اگر ایک طرف پولیو کے قطرے پلانے پر پابندیوں اور دہشت گردی کی واقعات کی وجہ سے معذور افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے تو دوسری طرف ان علاقوں میں ایسے معذور افراد بھی ہیں جنھوں نے کبھی اپنی جسمانی معذوری کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا بلکہ ہمت کر کے معذورں کی فلاح و بہبود کےلیے کام کرنے کو اپنا نصب العین اور مقصد بنا دیا۔

ان میں دونوں پاؤں اور آنکھوں سے معذور خیبر ایجنسی کے ایک باشندے نیاز بہادر کا نام قابل ذکر ہے جو صرف نام کے بہادر نہیں بلکہ حقیقت میں بھی بہادر ہیں۔

نیاز بہادر فرنٹیئر کور میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کر رہے تھے جب تقریباً 23 سال قبل بلوچستان میں سڑک کے کنارے ایک بم دھماکے کا نشانہ بن کر اپنے دونوں پاؤں اور آنکھوں سے معذور ہو گئے۔

نیاز بہادر کا کہنا ہے کہ جب وہ نوکری سے ریٹائرڈ ہوئے تو ان کا کوئی کام نہیں تھا اور اکثر اوقات لوگ گھر میں آ کر ان کی تصویریں بناتے اور اظہار ہمدری کیا کرتے کہ اپ کو ویل چئیر دے دیں گے اور آپ کےلیے رقم کا بندوبست کریں گے لیکن کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔

Image caption نیاز بہادرنے 2012 میں خیبر ایجنسی کی سطح پر نیاز معذوران کے نام سے ایک تنظیم قائم کی

’میں نے دل میں سوچا کہ آخر کب تک ایسا ہاتھ پر ہاتھ رکھے دوسروں کی طرف دیکھتا رہوں گا اور بھیک مانگوں گا، کیوں نہ میں خود معذورں کے لیے کوئی کام شروع کروں اور اس طرح میں نے چند طلبہ اور اساتذہ کی مدد سے ایک تنظیم بنانے کی منصوبہ بندی کا آغاز کیا اور 2012 میں ہم خیبر ایجنسی کی سطح پر نیاز معذوران کے نام سے ایک تنظیم بنانے میں کامیاب ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ ابتدا میں انھیں کئی قسم کے مشکلات کا سامنا رہا لیکن رفتہ رفتہ پوری ایجنسی کی سطح پر ایک نیٹ ورک بن گیا اور کام آسان ہوتا گیا۔ نیاز بہادر کے مطابق اب تک ان کی تنظیم کی طرف سے معذور افراد کو 80 سے زیادہ ویل چئیرز اور سفید جھڑیاں دی جا چکی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی تنظیم باقاعدہ طور پر سوشل ویلفئیر ڈپارٹمنٹ سےرجسٹرڈ ہے لیکن انھیں حکومت کی طرف سے کبھی کوئی امداد نہیں ملی بلکہ علاقے کے مخیر حضرات سے چندہ لے کر اس سے تنظیم چلایا جا رہا ہے۔

Image caption ان کی تنظیم کی طرف سے معذور افراد کو 80 سے زیادہ ویل چئیر اور سفید جھڑیاں دی جا چکی ہیں

’ہماری تنظیم کا سب سے بڑا مقصد فاٹا کی سطح پر معذور افراد کے اعداد و شمار اکٹھا کرنا اور ان کے لیے معذور افراد کا خصوصی شناختی کارڈ بنوانا ہے۔ اب تک خیبر ایجنسی میں ہم نے دو ہزار سے زیادہ جسمانی معذور افراد کا ڈیٹا جمع کر کے ان کے لیے خصوصی شناختی کارڈز بنوائے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ خصوصی معذور افراد کا شناختی کارڈ بنوانا بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے جس میں چار افراد پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ معذور شخص کا معائنہ کرنے کے بعد اس کی منظوری دیتا ہے جسے بنوانا عام معذور افراد کی بس کی بات نہیں۔

ان کے بقول خصوصی شناختی کارڈ بنوانے کے کافی سارے فوائد بھی ہیں جس میں معذورں کے لیے قومی ائرلائنز میں سفر کرنے پر نصف ٹکٹ اور اس کے علاوہ بھی کئی سہولتیں ہیں۔

نیاز بہادر کے مطابق ان کا اگلا ہدف تنظیم کا دائرہ کار پورے فاٹا تک بڑھانا ہے تاکہ تمام قبائلی علاقوں کی سطح پر معذور افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے اور ان کےلیے خصوصی شناختی کارڈ بنوائے جائیں۔

Image caption تنظیم باقاعدہ طورپر سوشل ویلفئیر ڈپارٹمنٹ سےرجسٹرڈ ہے

’ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے معذوروں کو کمتر سمجھا جاتا ہے، انھیں لنگڑا، اندھا اور بہرا جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ گلی محلوں اور گھروں میں والدین بھائی بہن اور پڑوسی اچھا برتاؤ نہیں کرتے جس سے معذور افراد جنھیں پیار و محبت کی ضرورت ہوتی ہے، مزید مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔’

نیاز بہادر کے بقول ’اگر ہمت اور حوصلہ ہو تو ہم معذور کسی سے کم نہیں، ہم ہر وہ وقت کام کرسکتے ہیں جو عام افراد کرتے ہیں۔ہمیں اپنی معذوری کو ڈھال بنانا چاہیے اور اسی کے زور پر معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

نیاز معذوران تنظیم میں بیشتر کام کرنے والے افراد کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں لیکن انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا بلکہ اپنے سربراہ کی طرح تنظیم میں کارکنوں کی طرح کام کر رہے ہیں۔