پاناما لیکس کمیشن: مسئلہ ایک بِل دو

حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے تحقیقات کو پاناما لیکس تک محدود کر کے قومی اسمبلی کی متفقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

حکومت نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن ایکٹ 1956 میں تبدیلی کا حتمی بل قومی اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے۔

٭ نااہلی کی درخواستوں پر وزیراعظم کو نوٹس جاری

٭ضابطہ کار بنانے کا معاملہ ٹھپ

٭ ’میاں صاحب ڈٹ جاؤ، ویکھی جائے گی‘

خیال رہے کہ پانامالیکس سے متعلق قائم کی گئی 12 رکنی پارلیمانی کمیٹیمیں ضوابطِ کار طے کرنے سے متعلق اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا میں دو روز قبل ہی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پانامالیکس کی تحقیقات سے متعلق بل جمع کروایا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیے جانے کے لیے تحقیقات کی جائیں۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن تک رسائی حاصل کی گئی جس پر الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ سمیت پانچ افراد سے چھ ستمبرکو جواب طلب کر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسلام آباد میں جمعے کو وفاقی وزرا اور پاناما لیکس سے متعلق حکومتی کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن ایکٹ 1956 میں تبدیلی کے لیے بل تیار کیا گیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے ملاقات کے لیے کوئی جواب نہیں ملا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کمیشنز آف انکوائری بل مجریہ 2016، 1956 کے انکوائری کمیشن ایکٹ کی جگہ لے گا جس کے تحت معاف کرائے گئے قرضوں، پاناما اور دیگر ممالک میں آف شور کمپنیوں، اور آمدنی سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا ابتدا سے ہی مفاہمتی رویہ تھا تاہم کوئٹہ میں سانحے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے اپوزیشن سے ملاقات کی کوششوں میں کامیابی نہیں ملی۔

’حکومت نے جب بل پیش کیا تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے کہا کہ ہمیں یہ قانون منظور نہیں۔‘

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے بل پیش کر کے حکومت کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا اس لیے بِل جمع کروایا۔ انھوں نے شکوہ کیا کہ اپوزیشن نے اپنے بل میں اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کی ہے۔

’پارلیمنٹ کو پابند نہیں کیا جا سکتا، یہاں سے اگر بِل جلدی پاس ہو بھی جائے تو اپوزیشن اسے چھ ماہ کے لیے سینیٹ میں بھی لٹکا سکتی ہے۔‘

اس موقعے پر وزیرِ قانون حامد زاہد نے بتایا کہ ’سپریم کورٹ کے اس حکم پر کہ کمیشن کو زیادہ اختیارات کی ضرورت ہے ہم نے نیا انکوائری کمیشن ایکٹ 1956 ترتیب دیا اور اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیا جانے والے بل کی نسبت حکومتی بل بہتر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس میں سنہ 1956 کے ایکٹ کی دفعات بھی شامل ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام صوبوں اور وفاق میں ایگزیکٹیو اتھارٹیز کی یہ ذمہ داری ہوگی وہ تحقیقات میں کمیشن کی ہر قسم کی معاونت کریں۔

وزیرِ قانون حامد زاہد کےمطابق کمیشن تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی بنا سکتا ہے جن میں مختلف ماہرین شامل ہو سکتے ہوں۔

’بین الاقوامی سطح پر ٹیمیں بھی تیار کی جا سکتی ہیں، بیرونی ممالک کے جوڈیشنل حکام کو بھی خطوط لکھے جا سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

وفاقی حکومت کا کہنا ہے ضرورت پڑنے پر اس بل میں مزید اختیارات بھی دیے جا سکتے ہیں اور تمام معلومات کو منظرِ عام کیا جائے گا۔ وزیرِ قانون کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کے مطابق اب ٹی او آرز جاری کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے متفقہ بل پاس ہوئے تھے کہ تحقیقات کے لیے پاناما کے علاوہ دیگر ممالک میں آف شور کمپنیاں رکھنے والوں اور قرضے لینے والوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

کیا ٹی او آر کمیٹی ختم ہو چکی ہے؟ اس سوال کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اگرچہ اپوزیشن کہتی ہے کہ ٹی آو آر کے لیے کمیٹی کا فائدہ نہیں تاہم حکومت اب بھی بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے وزیر اعظم کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں جس پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے یہ اعتراض لگا کر مسترد کر دیں کہ وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستیں دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ متعقلہ فورم نہیں ہے۔

اسی بارے میں