مردان میں خودکش حملے میں 12 ہلاک، پشاور میں حملے کی کوشش ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے وکلا کو شدت پسندی کے واقعات میں ہدف بنانے کا رجحان سامنے آیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں ہونے والے خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دارالحکومت پشاور میں سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں چار خودکش حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

مردان پولیس کے مطابق یہ خودکش دھماکہ ضلع کچہری کے احاطے میں ہوا اور مقامی ہسپتالوں کی فہرستوں کے مطابق مرنے والوں میں چار وکلا اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

٭ ’افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے سینکڑوں چوکیاں‘

٭’پاکستان سے دولتِ اسلامیہ کے خاتمے کا کام جاری‘

مردان میں سرکاری ریسکیو ادارے 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے جبکہ 54 زخمی ہیں جن میں ایک ڈی ایس پی سمیت تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

مردان کے ضلعی پولیس افسر فیصل شہزاد نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ ’حملہ آور نے پہلے ضلع کچہری کے داخلی دروازے پر دستی بم پھینکا، جس سے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔‘

ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کی فائرنگ پر حملہ آور کچہری کے اندر کی جانب بھاگا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ججوں اور وکلا سمیت دیگر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے وکلا کو شدت پسندی کے واقعات میں ہدف بنانے کا رجحان سامنے آیا ہے اور گذشتہ ماہ ہی میں کوئٹہ میں ہسپتال کے باہر ہونے والے دھماکے میں 55 سے زائد وکلا ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے قبل جمعے کی صبح صوبائی دارالحکومت پشاور کی ورسک روڈ پر واقع کرسچیئن کالونی پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد جوابی کارروائی میں چار شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ کرسچیئن کالونی پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کی اور ’چاروں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، علاقے میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔‘

آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ حملہ آور صبح کے وقت اسلحے اور گولہ بارود کے ہمراہ کالونی میں داخل ہوئے اور پہلے سکیورٹی گارڈ کو نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور کی کرسچیئن کالونی میں اس وقت سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے

حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے دو، پولیس کا ایک اہلکار اور دو سویلین سکیورٹی گارڈ زخمی ہوئے۔

سوات سکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل نعیم نے واقعے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’کرسچیئن کالونی پر حملہ کرنے والے چاروں شدت پسندوں کو سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی وجہ سے کالونی میں واقع گھروں تک پہنچنے نہیں دیاگیا۔ جب شدت پسند ایک جگہ پھنس گئے تو فورسز کا گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر انھوں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘

بم ڈسپوزل سکواڈ کے حکام کے مطابق ہر حملہ آور کے پاس دو دستی بم اور خود کش جیکٹس تھیں اور جیکٹ میں لگ بھگ چھ کلو گرام تک بارودی مواد تھا ۔

خیال رہے کہ پشاور میں شدت پسند پہلے متعدد بار عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں