’احتجاج کا حق نہیں، صرف مرنے کا حق ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سوشلستان حب الوطنی کا فیصلہ تو نہیں کر پایا مگر بات بدلتے بدلتے کراچی سے نکل کر چین پاکستان اقتصادی راہداری کے موضوع تک آ پہنچی اور اس دوران پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ کے جواب پر مسلم لیگ ن کا ردِ عمل اور پی ٹی آئی کی سپننگ قابلِ دید تھی۔

چلتے ہیں اس ہفتے کے موضوعات کی جانب۔

کوئٹہ پر سو موٹو پشاور والوں کے لیے کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ APS Parents
Image caption اسلام آباد میں احتجاج کی تصویر

آپ میں سے شاید بہت کم ایسے ہوں گے جنھیں یہ پتہ ہو گا کہ گذشتہ روز 200 کے قریب افراد جن میں اکثریت ایسے والدین کی تھی جن کے بچے پشاور کے آرمی پبلک سکول میں اپنی جان سے گئے، اسلام آباد احتجاج کی غرض سے آئے۔ انھیں پولیس نے احتجاج کرنے سے روکا اور میڈیا کو نہ صرف دور رکھا گیا بلکہ اس کی کوریج کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ان والدین کے ساتھ میڈیا نے ایسا سلوک کیا ہو۔ مگر اس بار ان والدین کا مطالبہ تھا کہ جس طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کوئٹہ کے وکلا کی ہلاکتوں پر از خود نوٹس لیا ہے اسی طرح آرمی پبلک سکول واقعے کی بھی عدالتی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان والدین کو مختلف مشورے دیے۔ افشاں مصعب کا کہنا تھا کہ ’ان معصوموں کے والدین کنٹینر خریدیں تو شاید بات بن جائے‘ جبکہ ایک اور صاحب نے کہا کہ باقاعدگی سے لفظ ’کولیٹرل ڈیمیج گوگل کیا کریں۔‘

ناظمی نے لکھا: ’پاکستان میں احتجاج صرف سیاستدانوں کے خلاف ہو سکتا ہے‘ کسی اور کے خلاف نہیں۔

شمس مندوخیل نے لکھا: ’احتجاج کا حق کسی کو نہیں ہے، صرف مرنے کا حق ہے۔‘

پرویز کریم نے لکھا ’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ زیادتی ہے۔ تھپڑ لگنے کے بعد جوابی تھپڑ کی اجازت نہ سہی رونے کی اجازت تو دینی چاہیے۔‘

آسٹریلوی جج کی پیشکش

آسٹریلیا کے ایک جج نے پیشکش کی کہ وہ ایک پناہ گزین کی جگہ پر اس کے کیمپ میں زندگی گزرانے کو تیار ہیں جس کی جگہ پر ایک پناہ گزین کو ملک میں آنے کی اجازت دی جائے۔

جہاں دنیا کے کئی ممالک نے لاکھوں پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا ہے وہیں بہت سے ممالک ہیں جنھوں نے پناہ گزینوں کے لیے قوانین نہ صرف سخت کیے ہیں بلکہ انھیں قبول کرنے سے انکار بھی کیا ہے۔

عادی ناصر نے اس پر تبصرہ کیا کہ ’یہ ہیں وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار جن سے بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ محروم ہو رہا ہے۔‘

نسیم دشتی نے لکھا ’دو نمبر مذہبی لوگوں سے بظاہر یہ کافر شخص اور اس جیسے ہزاروں کافر لاکھ درجہ بہتر ہیں۔‘

کسے فالو کریں؟

صحافت ہو یا سیاست اعداد وشمار کی اہمیت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں مضامین شائع ہوتے ہیں جن میں جائزے اور تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر سرگرم ولی زاہد اس لحاظ سے ایک اہم کام یہ کرتے ہیں کہ پاکستانی معیشت کے حوالے سے اعداد و شمار کو دنیا بھر کے اخبارات اور ویب سائٹس پر چھانتے رہتے ہیں اور پھر اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر کے ایک اہم کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے فیس بُک پیج پر آپ بہت سارے موضوعات پر اہم معلومات مل سکتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جاپانی شہنشاہ کے محل سے جاری شدہ یہ تصویر جس میں جاپانی شہنشاہ سعودی نائب ولی عہد سے ملاقات کر رہے ہیں۔ مگر اس تصویر میں اس ملاقات کے علاوہ بہت کچھ ہے خصوصاً سادگی جس پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے سامنے آئے۔

اگر سب اس رکشے والے کی طرح سوچیں تو۔۔۔

اسی بارے میں