شمال کو اپنا سمجھیں!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جھیل تک جانے والے راستے پہ اب کوئی کوڑا نہیں

پچھلے دنوں مجھےگلگت بلتستان کی ایک جھیل تک جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سفر عین ان دنوں اختیار کیا گیا جب مون سون اپنے جو بن پہ تھیں اور کوئی بھی عقلمند انسان، استور کے علاقے راما میں پوشیدہ،گلیشیئرز سے پھوٹنے والی جھیل کا سفر اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دے رہا تھا۔

خیر عقل مندوں اور بزرج مہروں کے مشوروں کو تو میں کبھی خاطر میں لائی بھی نہیں، مو سم کے تیور واقعی خطر ناک تھے۔ مگر میں مجبور تھی۔ خواب میں دیکھے ہوئے ایک گم گشتہ منظر کی طرح راما جھیل مجھے بلا رہی تھی اور میں اس کوہِ ندا کی پکار پہ لبیک کہنے پر مجبور تھی، سخت مجبور۔ باوجود اس کے کہ راستہ خطر ناک تھا، طویل تھا،مجھے وہاں جانا ہی پڑا۔

ایک گھنٹے پیدل چل کر، تین گلیشیئرز کو عبور کر کے مجھے راما کی ازلی اور ابدی تنہائی میں خلل ڈالنا پڑا، یہ میری مجبوری تھی۔ یہ نہ سمجھیے کہ اس جھیل کہ کناروں پہ کوئی پری زاد اترتے ہیں جو اپنی سحر طرازیوں کو آزمانے کے لیے، میدانوں کے باسیوں کو ورغلا کے یہاں بلا لیتے ہیں، نہ مناظر کا عشق مجھے یہاں لایا تھا، نہ مہم جوئی کی خواہش تھی اور نہ ہی مجھے اس جھیل کے اسرار سے کوئی پردہ اٹھانا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نہ مجھے اس کے جوار میں پھیلی، جڑی بوٹیوں اور مبینہ قیمتی پتھروں سے غرض تھی۔ نہ ہی بکر والوں کے گلے مجھے لبھاتے تھے

میری مجبوری بڑی عجیب تھی۔ لاہور سے دو روز کا طویل سفر صرف ایک جھیل تک پہنچنے کے لیے کرنا۔ وہ بھی اس صورت کہ بچوں کا تعلیمی سال ابھی شروع ہوا تھا اور ان کو بس اللہ تو کل چھوڑ کے اتنی دور دراز کا سفر اختیار کرنا کسی صورت دانش مندی نہ تھی مگر کہا ناں، مجبوری تھی۔ مجھے راما جانا تھا بہرصورت۔

راما کا یہ بلاوہ اس لیے بھی پر کشش ہو سکتا تھا کہ اس کے راستے میں مری کے دلفریب نظاروں سے لے کر، ناران کی حسین وادی اور لولوسر کی پر اسرار جھیل، بابوسر ٹاپ کی ہولناک بلندی سے لے کر، استور کی تصویری خاکہ سی وادی گزرتی ہیں۔ لیکن میرے سفر کا محرک یہ بھی نہ تھا۔

نہ مجھے اس کے جوار میں پھیلی، جڑی بوٹیوں اور مبینہ قیمتی پتھروں سے غرض تھی۔ نہ ہی بکر والوں کے گلے مجھے لبھاتے تھے۔ میری دھن، اور لگی کچھ عجیب ہی تھی۔ جانے پڑھ کر آپ کیا سو چیں۔ لیکن میں ایمان داری سے یہ با ت بتانا چاہتی ہوں کہ اس حسین جھیل تک ہانپتے کانپتے، گلیشئرز سے گرتے پڑتے پہنچنے کے پیچھے میرا، فطرت سے کسی قسم کا عشق پو شیدہ نہیں، حاشا و کلا میں وہ کوہ نورد نہیں جسے، شمال بلاتا ہے اور اپنی برفیلی چپ میں منجمند کہانیاں سناتا ہے۔ قطعاً نہیں، میں وہ کوہ نورد نہیں مگر میں نے اس کو ہِ ندا کی پکار پہ لبیک کہا اور راما جھیل کا سفر اختیار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption راما جھیل تک جانے والے راستے پر نسبتاً کم کوڑا تھا

یہ سفر میں نے ایک ڈاکٹر بچی کے کہنے پر اختیار کیا جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن جس مقصد کے لیے وہ وہاں جانا چاہتی تھی وہ اتنا بڑا تھا کہ میں مجبور ہوگئی۔ جی نہیں! دکھی انسانیت کی خدمت قسم کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ہمارا مقصد تو بڑا عجیب سا تھا۔ کوڑا اٹھانا!

نام نہاد، کڑھائی گوشت خور سیاحوں کو جب سے زکام ہوا اور انھوں نے دور افتادہ جھیلوں چوٹیوں اور چراگاہوں کا رخ کیا تو وہ اپنے ساتھ خالی بوتلیں، لفافے اور پلاسٹک کا دیگر فضلہ بھی لے گئے۔ ان سب کو کسی نہ کسی طرح یہ یقین ہو چکا ہے کہ وہ شمال کے عاشق ہیں اور چونکہ خیر سے پا کستانی ساختہ ہیں اس لیے، شمال کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو پاکستا نی عا شق اپنے معشوق کے ساتھ کرتے ہیں یعنی اسے کسی جو گا نہیں چھوڑتے۔

راما جھیل تک جانے والے راستے پر نسبتاً کم کوڑا تھا۔ ہم خوش گپیاں کرتے، کوڑا اٹھاتے، ڈیڑھ پونے دو گھنٹے میں جھیل تک پہنچ گئے۔ جھیل کا حسن کچھ دیکھا، باقی بعد میں آنے والوں کے لیے جوں کا توں چھوڑ کر آگئے۔ واپسی کے سفر میں بھی جو کچھ کوڑا، پلاسٹک، ڈبے، بو تلیں ملیں، اٹھائیں۔ جھیل تک جانے والے راستے پہ اب کوئی کوڑا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگلی منزل،’ سیف الملوک‘ اور’آنسو جھیل‘ ہیں

جس بچی نے یہ کام شروع کیا، اس نے کسی، سرکاری، نیم سرکاری و غیر سرکاری ادارے سے مدد نہیں مانگی۔ نہ ہی کسی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اس نے صرف اپنے ملک کو اپنا یا۔ عشق وشق کا جھمیلا نہ پا لا صرف اپنا سمجھا اور عین اسی طرح جیسے، بد تہذیب مہمانوں کے جانے کے بعد، اپنا گھر صاف کیا جاتا ہے، راما جھیل تک جانے کا راستہ صاف کیا اور راما میڈوز پہ مو جود نوجوانوں، ثقلین پروانہ، عامر خان اور عظمت اللہ کو ایک بینر بنوانے کو دے آئی، جس پہ لکھا ہو گا،’راما کے حسن کوبچائیں، اپنا کوڑا اپنے ساتھ لے جائیں‘۔

اگلی منزل،’ سیف الملوک‘ اور’آنسو جھیل‘ ہیں۔ کاش جب ہم وہاں پہنچیں تو ہم سے پہلے ہی کوئی تماش بین، تماش بینی چھوڑکر ان جھیلوں کو اپنا چکا ہو اور ہمیں یہ ویسی ہی ملیں جیسی یہ تھیں ، حسین، نیلی، خاموش ، پرا سرار ۔

اسی بارے میں