وکلا پر حملوں کے خلاف پاکستان بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وکلا کے خلاف حملے پر بائیکاٹ کی یہ کال پاکستان بار کونسل نے دی تھی

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں ضلعی کچہری اور کوئٹہ کے سول ہسپتال میں وکلا برادری پر حملوں کے خلاف پیر کو پاکستان بھر میں وکلا نے عدالتی کارروائیوں سے بائیکاٹ کیا۔

بائیکاٹ کی یہ کال پاکستان بار کونسل نے دی تھی۔

پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، کوئٹہ، پشاور، لاہور اور اسلام آباد سمیت تمام شہروں میں پیر کو وکلا مقدمات کی پیروی کے لیے عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جبکہ ضلع مردان کے بار روم میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے وکلا کی فاتحہ خوانی جاری رہی۔

یاد رہے کہ گذشتہ جمعے کو ضلع مردان کی کچہری میں حکام کے مطابق ایک خودکش بم حملے میں چار وکلا سمیت بارہ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین ڈاکٹر فروغ نسیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں وکلا کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وکلا کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہدف بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان میں ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کے ادارے کو ٹارگٹ بنایا جائے۔

ڈاکٹر فروغ نسیم کے مطابق بار کونسل نے چیف جسٹس آف پاکستان کو کوئٹہ میں وکلابرادری پر خودکش بم حملے کے بعد ایک خط لکھا تھا جس میں اس واقعے پر ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے از خود نوٹس لیتے ہوئے صوبے کی پولیس کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کو تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ اس وقعے سے متعلق 20 ستمبر تک تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔

یاد رہے کہ آٹھ اگست کو کوئٹہ میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال احمد کانسی کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کردیا گیا جس کے بعد وکلا برادری سول ہسپتال کے باہر جمع ہوئی تھی تو وہاں ایک خودکش دھماکے میں ساٹھ سے زائد وکیل ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں