فارم میں جنس شامل نہ کرنے پر خواجہ سراؤں کا عدالت سے رجوع

Image caption تنظیم ٹرانس ایکشن کی صوبائی صدر فرزانہ جان نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیےسنجیدہ رویہ نہیں اپنایا

خیبر پختونخوا کی خواجہ سرا برادری نے جنس سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات نہ ماننے پر پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود مردم شماری فارم میں جنس کے کالم میں خواجہ سراؤں کو شامل نہیں کیا گیا ہے اس لیے مردم شماری کی حالیہ تیاری کو فوری طور پر روک دیا جائے۔

یہ رٹ درخواست خواجہ سراؤں کی صوبائی تنظیم ٹرانس ایکشن کی طرف سے آئین کے آرٹیکل دفعہ 199 کے تحت دائر کی گئی ہے۔

قانونی ماہرین کی ایک ٹیم کے توسط سے جمع کرائی گئی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے چند سال قبل خواجہ سراؤں کو جنس کا درجہ دیا گیا تھا لیکن مردم شماری کے حالیہ فارم کے جنس کے خانے میں مرد و عورت کا ذکر تو ہے لیکن خواجہ سراؤں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے نینشل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو پابند بنایا گیا تھا کہ خواجہ سراؤں کو ان کی مرضی کے مطابق قومی شناختی کارڈ جاری کیا جائے لیکن اس حکم پر بھی تاحال کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

تنظیم ٹرانس ایکشن کی صوبائی صدر فرزانہ جان نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیےسنجیدہ رویہ نہیں اپنایا اور سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے احکامات کو سالوں تک نظر انداز کیے رکھا اور ان کے مطابق یہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی تنظیم گذشتہ تقریباً چھ ماہ سے خیبرپختونحوا کے محکمہ شماریات سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مردم شماری کے فارم میں خواجہ سراؤں کے کالم کو شامل کیا جائے اور اس ضمن میں کئی مظاہرے، پریس کانفرنسز اور سمینارز بھی منعقد کیے گئے لیکن محکمۂ شماریات کی جانب سے مردم شماری کے لیے تیاکردہ فارم میں خواجہ سراؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ٹرانس ایکشن کی نائب صوبائی صدر پارو نے کہا کہ مردم شماری اور شناختی کارڈ کے حصول کے لیے یہ عدالتی جنگ محض ابتدا ہے، ابھی بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جنھیں عدالت میں لے کر آئیں گے اور ایسا کرنا اُن کا آئینی اور شہری حق ہے۔

اس موقعے پر بات کرتے ہوئے پختونخوا سول سوسائٹی نیٹ ورک کے منتظم تیمور کمال نے کہا کہ خواجہ سرا سول سوسائٹی کا ایک اہم سرگرم حصہ بن چکے ہیں اور بطور شہری انھیں کسی صورت پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ تفریق و امتیازات کو ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ شمولیت اور احترام آدمیت پر مبنی پالیسیاں اور قوانین بنائے جائیں۔

انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن قمر نسیم نے کہا کہ مردم شماری میں حصہ لینا تمام پاکستانیوں کا آئینی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ خواجہ سراؤں سے متعلق پروٹیکشن پالیسی اپنائی جائے تاکہ ان سے متعلق مسائل کو سرکاری سرپرستی میں حل کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ کچھ عرصہ سے خواجہ سرا برادری کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان پر کئی حملے کیے جا چکے ہیں جس میں کئی خواجہ سرا ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں