’اورنج لائن اگر تحفہ ہے تو عذاب کیسا ہوگا؟‘

Image caption لاہور میں زیر تعمیر اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ شروع دن سے تنازعات اور تنقید کی زد میں ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں عدالتی حکم پر اورنج لائن میٹرو ٹرین کے تعمیراتی کام کی جزوی بندش سے منصوبے کی زد میں آنے والے کچھ متاثرین کو وقتی طور پر اطمینان ملا ہے لیکن منصوبے کی وجہ سے بےگھر ہونے والے اور کاروباری متاثرین حکومتی معاوضوں سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

ایسے ہی کچھ متاثرین پیر کی شام لاہور میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے دفتر میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے۔ اس تقریب میں متاثرین کے علاوہ وکلا، ماہرین تعمیرات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

٭ اورنج لائن منصوبہ اور تاریخی عمارتوں کا مرثیہ

٭ اورنج لائن منصوبہ: تاریخی عمارتوں کے قریب تعمیر پر پابندی برقرار

صحافی ناصر خان کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے متاثرین پر تحقیق کرنے والی نیشنل کالج آف آرٹس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر مریم حسین کا کہنا تھا کہ سرکاری کالونیوں میں رہائش پذیر افراد سے آدھی رات میں آپریشن کر کے زبردستی مکانات خالی کرائے گئے اور حکومت نے دہشت گردوں جیسا رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کالونی، پوسٹل کالونی میں رہنے والے گریڈ ایک سے 11 کے سرکاری ملازمین سے زبردستی گھر خالی کرائے گئے، انھیں کرایے کی مد میں 20 ہزار ماہانہ اور متبادل رہائش دینے کا وعدہ تو کیا گیا لیکن نہ انھیں کرایہ ملا اور نہ مکانات دیے گئے۔

مریم حسین کے مطابق منصوبے سے چھ سے آٹھ لاکھ افراد متاثر ہو رہے ہیں لیکن صرف بااثر افراد کو پوری ادائیگی کی گئی ہے اور جو غریب اور پہنچ والا نہیں ہے اسے کم پیسوں ہی میں ٹرخایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aown Ali
Image caption سول سوسائٹی اور ماحولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والے حلقوں کو اعتراض ہے کہ لاہور کی پہچان، متعدد تاریخی عمارتوں کا وجود اس منصوبے کی وجہ سے خطرے میں پڑ چکا ہے

’بنگالی بلڈنگ میں عرصہ دراز سے رہنے والے مہاجرین ایک بار پھر در بدر ہوگئے ہیں، حکومت نے انھیں دس، دس لاکھ روپے دیے لیکن دس لاکھ سے کہاں گھر بنتا ہے؟‘

مریم حسین کے مطابق’42 سکول و کالج اورنج لائن میٹرو ٹرین کی زد میں آ رہے ہیں جنھیں مکمل یا جزوی مسماری کا سامنا ہے۔ کئی مساجد، گرجا گھر، قبرستان بھی اس ٹرین کی نذر ہوجائیں گے لیکن متبادل کا کوئی بندوبست نہیں نہ ہی کوئی پلاننگ کی گئی ہے کہ متاثرین کہاں جائیں گے۔‘

تقریب میں شامل لاہور ہائی کورٹ میں اورنج میٹرو ٹرین کے خلاف کیس کے مدعی انجینئر کامل خان ممتاز کا کہنا تھا کہ میٹرو ٹرین جیسے میگا پراجیکٹ اس وقت عوام کی ضرورت نہیں اس سے جہاں لاہور کے تاریخی ورثے کو خطرات لاحق ہیں وہیں یہ ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متاثرین میں شامل کپورتھلہ ہاؤس کے رہائشی علی راشد نے بتایا کہ صرف ان کے چھوٹے سے علاقے کے سات محلوں کے تقریباً دس ہزار افراد اورنج لائن میٹرو ٹرین کے منصوبے سے متاثر ہو رہے ہیں۔

’ کسی کے سر سے چھت جا رہی ہے تو کوئی کاروبار سے محروم ہو رہا ہے جبکہ سڑک پر بیٹھ کر چھوٹا موٹا روزگار کرنے والے سینکڑوں لوگ اب دیہاڑی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘

Image caption لاہور ہائی کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی راہ میں آنے والی ان عمارتوں کے قریب دو سو فٹ کی حدود میں ہر طرح کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے

علی راشد کہتے ہیں کہ ’کہا جاتا ہے کہ یہ چائنا کا تحفہ ہے، اگر یہ تحفہ ہے تو عذاب کیسا ہوگا؟ حکومت کہتی یہ ترقی ہے، اگر یہ ترقی ہے تو ان کا عتاب کیسا ہوگا۔‘

مہاراجہ بلڈنگ کی شبانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے 16 سال کی عمر سے محنت مزدوری کر کے اپنا گھر بنایا لیکن اب وہ بھی ان سے چھینا جارہا ہے۔’ہم کس کے پاس جائیں، ہماری کوئی نہیں سنتا، انٹرویوز دے کر بھی تھک گئے ہیں۔‘

بابا موج دریا کی مسز فہیم کو بھی اپنی چھت کی فکر لاحق ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا گھر منصوبے کے نقشے میں شامل نہیں لیکن پھر بھی اس پر گھر خالی کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

’نجانے کس کو ہمارے گھر کی ضرورت ہے شاید کسی بااثر شخصیت نے یہاں پلازہ بنانا ہے اس لیے ہمیں خوف زدہ کر کے پوری زندگی کی کمائی چھینی جا رہی ہے۔‘

بینائی سے محروم پیراشوٹ کالونی کے شکیل نے کہا کہ ’حکومت دس لاکھ دینے کی بجائے متبادل مکان بنا کر دے تو بھی دل کو تسلی ہو، دس لاکھ میں کہاں کوئی مکان بنتا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں