چھ ستمبر کی تقریب اور سپہ سالار کی ’معنی خیز‘ انٹری

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

میڈیا مینیجمنٹ یقینا ایک آرٹ ہے اور جس مہارت سے پاکستان فوج نے چھ ستمبر کے دن راولپنڈی ہیڈ کوارٹرز میں بڑی تقریب منعقد کرنے کی روایت ڈالی ہے اس کے فوائد فوج کے لیے یقیناً بےشمار ہیں۔

یہ تقریب جس کی بنیاد جنرل راحیل شریف نے چند برس قبل رکھی تھی، اب سپہ سالار کے پوری قوم اور باقی دنیا سے براہ راست خطاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں ملک کے سیاسی نظام میں ایسا کوئی باضابطہ انتظام نہیں ہے۔

ملک کے کمانڈر ان چیف یعنی صدر مملکت کا جو اس تقریب میں موجود نہیں تھے، پارلیمان سے سالانہ خطاب کی روایت ضرور موجود ہے لیکن صدر صدر میں فرق ہوتا ہے۔ جب تک پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری صدر تھے تو یہ خطاب قدرے اہم تھا لیکن اب غیرمتحرک اور غیرسیاسی صدر کی موجودگی میں وہ بات نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق صدر ممنون حسین ویسے ہی حج کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔

وزیر اعظم ضرورت پڑنے پر قوم سے خطاب کر لیتے ہیں ورنہ انھیں سال کے 365 دن اور بہت سے کام ہوتے ہیں۔ ادھر ادھر کی باتیں اور عوام سے براہ راست خطاب کا شوق وہ جلسے جلوسوں سے پورا کر لیتے ہیں جیسے کہ آج چترال میں۔ پارلیمان تو ان کی راہ تکتی رہتی ہے کہ کب وہ آئیں گے اور کب کوئی پالیسی بیان دیں گے۔

کاش سال میں ایک مرتبہ برطانوی پارلیمان کے طرز کا ’کویسچن آور‘ ہی رکھ لیں۔ وہ ویسے اس تقریب میں نہ تو مدعو ہوتے ہیں اور نہ ہی بقول ایک سرکاری افسر کوئی پروٹوکول کا اس میں ایسا کوئی مسئلہ ہے۔ تاہم وفاقی وزرا تو اپنی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ ایک بڑا فوجی شو ہے جو فوج منعقد کرتی ہے اور جس میں فوجی ہی فوجی ہوتے ہیں۔ خیر سیاست دانوں کی سنجیدگی کا رونا کیا رویں، فوجی سربراہ نے تو بڑے رعب داب سے اپنے ’ٹو دی پوائنٹ‘ خطاب میں قوم کے رخ کا سالانہ تعین کر دیا۔

اس میں شہدا کے اہل خانہ اور ہم جیسے میڈیا کے چند نمائندے بھی مدعو ہوتے ہیں۔ اگر وہ نومبر میں ریٹائر ہو جائیں تو یہ ان کا شاید بطور فوجی سربراہ اس تقریب سے آخری خطاب ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تقریب کے گراونڈ میں ان کا داخلہ کافی معنی خیز تھا جو یقینا اتفاقیہ ہی تھا۔ وفاقی وزرا تو ایک ایک کر کے اپنی نشتوں پر براجمان ہوئے لیکن پارلیمان کے ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن اور قومی اسمبلی میں ان کے ہم پلہ خورشید شاہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ آئے۔ تمام تقریب میں خورشید شاہ جنرل صاحب کے شانہ بشانہ براجمان بھی رہے۔ جنرل راحیل شریف کا اپنے خطاب میں بدعنوانی کے خاتمے پر زور کو نواز مخالفین یقیناً اپنی عینک سے دیکھ رہے ہوں گے۔

جنرل راحیل کے خطاب نے ملکی خارجہ، داخلہ اور سکیورٹی پالیسیاں سب واضح کر دیں۔ کشمیر شہ رگ ہے اور سی پیک اس وقت کی ملک کی اہم ترین ضرورت جس کے لیے کسی دشمن کی ہینکی پینکی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری پر حساس سرکاری حلقوں کی جانب سے جو فیڈبیک قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو ملتی رہتی ہے اس سے تو اس موضوع کی حکومت اور فوج دونوں کے لیے حساسیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

تقریب میں شرکا کو جن میں مختلف ممالک کے سفارت کار بھی شامل تھے، دہشت گردی سے متاثرہ ماؤں اور بہنوں کی ویڈیوز اور گیت دکھائے گئے۔ ان ویڈیوز سے بھی فوج کی سوچ اور ترجیحات واضح ہوتی ہیں۔ ایک ویڈیو میں انڈیا کا پاکستانی چوکی پر حملہ اور جوابی کارروائی میں انڈین پرچم کا زمین پر گرنا واضح پیغام تھا کہ دشمن صرف دہشت گردی نہیں بلکہ ہمسایہ بھی ہے۔

جنرل راحیل کی تقریر کے بعد کم از کم میرے کئی اندرونی ذہنی ابہام دور ہوگئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں