’سپیکر غیر جانبدار نہیں رہے، اپوزیشن کا اجلاس سے واک آؤٹ‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جمعرات کو سپیکر نیشنل اسمبلی ایاز صادق کو ’جانبدار قرار‘ دیتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور 24 ستمبر کو اعلان کردہ احتجاجی دھرنے کی جگہ رائے ونڈ کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنی جماعت کے ارکان کے ہمراہ واک آؤٹ کرنے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت حزب اختلاف کی باقی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔

اس علامتی واک آؤٹ میں پی ٹی آئی کے ساتھ حزب اختلاف کی باقی جماعتوں کے اراکین بھی شامل تھے۔

عمرا ن خان کا کہنا تھا کہ اگر پامانا لیکس کے معاملے پر حزب مخالف کی تمام جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دیں تو وہ 24 ستمبر کو احتجاج کی جگہ تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ وہ ایاز صادق کو سپیکر نہیں مانتے کیونکہ سپیکر کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ ’اب میں انھیں ایاز صادق کہوں گا، سپیکر نہیں، میرے خیال میں وہ سپیکر نہیں ہیں۔ سپیکر غیر جانبدار ہوتا ہے۔‘

٭نواز شریف کو مزید مہلت عمران خان کو مہلت

٭ عمران خان کا 24 ستمبر کو رائے ونڈ جانے کا اعلان

عمران خان نے کہا کہ کیا مجبوری تھی کہ سپیکر نے ان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمشن کو بھجوایا لیکن وزیراعظم کے خلاف ریفرنس کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا سنہ 2013 سے ان کا کوئی اثاثہ چھپا ہوا نہیں تھا۔

عمران خان نے شکوہ کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے پاناما لیکس کے معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا گیا اور ہمارے پرامن احتجاج کو جمہوریت مخالف قرار دیا جاتا ہے۔

’ہمارے پرامن احتجاج پر حکومت کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت ڈی ریل ہو رہی ہے اور ہم فوج کو دعوت دے رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ٹی او آرز عدالتی حکم کے بعد مل کر بنائے گئے تاہم حکومت کہتی ہے کہ اپوزیشن کے ٹی او آرز میں صرف نواز شریف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطے کرر ہی ہے۔

عمران خان کی طرف سے 24 ستمبر کو رائے ونڈ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے کے اعلان پر حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کی طرف سے مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت جماعت اسلامی نے بھی عمران خان کے اس فیصلے کی تائید نہیں کی۔ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس احتجاج میں شریک ہونے سے متعلق تحریک انصاف کی قیادت کو کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔

قومی اسمبلی میں ایک ہی سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اس احتجاج میں شریک ہونے کی بات کی ہے۔ واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کی قومی اسمبلی میں صرف ایک ہی سیٹ ہے۔

دوسری طرف پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے پاناما لیکس کے معاملے پر نیب، ایف بی آر، ایف آئی اے اور سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سربراہان کے نہ آنے پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ اتنے اہم معاملے پر ان اداروں کے سربراہوں کا پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں نہ آنا افسوس ناک ہے۔ اُنھوں نے تنبیہ کی کہ اگر آئندہ اجلاس میں ان اداروں کے سربراہان نہ آئے تو اُنھیں شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر ان سے جواب طلب کیا ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف کو پاناما لیکس کے معاملے میں جواب داخل کروانے کے لیے مزید تین ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔

کمیشن نے یہ نوٹس وکیل شاہنواز ڈھلوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جاری کیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے آف شور کمپنی بنا کر نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ اس رقم پر انھوں نے ٹیکس بھی ادا نہیں کیا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انتخابی گوشواروں میں بھی ان کی آف شور کمپنی کا ذکر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 پر پورا نہیں اُترتے اس لیے اُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی طرف سے عمران خان کی نااہلی سے متعلق دائر کیے گئے ایک اور ریفرنس پر مقررہ مدت میں کارروائی نہ کیے جانے پر وہ بھی الیکشن کمیشن کو مل گیا ہے تاہم کمیشن نے اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں