پی ایس 127: ’پی پی پی کی جیت‘، ایم کیو ایم کے تحفظات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے صوبائی حلقے پی ایس 127 کے ریٹرننگ افسر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ بلوچ کی کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ بلوچ نے 21 ہزار 117 ووٹ حاصل کیے جبکہ ایم کیو ایم کے امیدوار وسیم احمد 15 ہزار 553 ووٹ لے سکے جبکہ تیسرے نمبر پر تحریک انصاف کے امیدوار ندیم میمن کو پانچ ہزار سے زائد ووٹ ملے۔

انھوں نے بتایا کہ انتخابات میں 20 امیدوار تھے جبکہ ٹرن آؤٹ 21 فیصد رہا ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پی ایس 127 کے نتائج کو وہ تکنیکی طور پر دیکھیں گے اس کے بعد فیصلہ کریں گے کہ نتائج کو تسلیم کریں یا عدالت میں جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 21 ہزار ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے امیدوار کو 16 ہزار ووٹ ملے ہیں، یعنی انہیں 5 ہزار ووٹوں سے ہارا ہوا دکھایا گیا ہے۔

’134 پولنگ سٹیشنوں میں سے 82 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج موجود ہیں، باقی نتائج ہمیں نہیں ملے ہیں۔ ہم نے اپنے امیدوار کو ریٹرننگ افسر کے پاس بھیجا ہے۔ نتائج اس لیے شیئر نہیں کیے گئے وہ ابھی حتمی نہیں ہیں، اس سے قبل نتیجے کا اعلان کیسے کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ 82 پولنگ سٹیشنوں میں انھیں برتری حاصل تھی جبکہ 52 پولنگ سٹیشنوں میں دھاندھلی کی گئی ہے، جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری نے مرتضیٰ بھٹو کی کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو نے لکھا ہے کہ ’ماروی ملیر جی بینظیر بینظیر‘۔ آصف علی زرداری نے کارکنوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ منظم رہیں مستقبل ان کا ہے۔

اس حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ بلوچ، ایم کیو ایم کے وسیم احمد اور تحریک انصاف کے ندیم میمن میں مقابلہ ہے۔ یہ نشست ایم کیو ایم کے منحرف رکن اسمبلی اشفاق منگی کے مستعفی ہونے کی وجہ سے خالی قرار دی گئی تھی۔

2002 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار عبداللہ مراد اس حلقے سے کامیاب ہوئے، جو 2004 میں ایک حملے میں وہ ہلاک ہوئے۔ بعد میں ضمنی انتخابات میں یہ نشست ایم کیو ایم کے پاس چلی گئی اور اس کے امیدوار یوسف منیر یہاں سے ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس حلقے میں سندھی اور بلوچ ووٹ بینک ہونے کی وجہ سے ایم کیو ایم نے 2008 اور 2013 کے انتخابات میں یہاں سے سندھی امیدواروں کو نامزد کیا۔

2008 میں نثار پہنور اور 2013 میں اشفاق منگی کامیاب ہوئے جو دونوں اس وقت مصطفیٰ کمال کی جماعت پاک سر زمین میں شامل ہیں۔

جمعرات کو ضمنی انتخابات پرتشدد رہے، جس کے دوران دو افراد زخمی ہوئے جبکہ 9 کے قریب کو حراست میں لیا گیا ہے۔

2013 کے عام انتخابات اور اس کے بعد بلدیاتی انتخابات میں بھی ملیر میں ایم کیو ایم اور مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے کارکنوں میں کشیدگی رہی تھی۔ آج ضمنی انتخاب کے موقعے پر بھی یہ صورتحال جاری رہی۔

ملیر کے شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد دو لاکھ سے زائد تھی جبکہ کل 134 میں سے 116 پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ کشیدگی اور تصادم کے باعث شہری علاقوں کی پولنگ سٹیشنوں پر ووٹروں کی تعداد کم رہی۔

پولیس نے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور ہمدردوں سمیت 9 افراد کو حراست میں لیا ہے اور 10 کے قریب موٹر سائیکلیں بھی قبضے میں لے گئی ہیں۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے ووٹنگ کے اختتام سے ایک گھنٹہ قبل بعض پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں