پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکہ، آٹھ اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عمریں 25 سے 27 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں(فائل فوٹو)

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے سے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

یہ دھماکہ ورسک کے علاقے تھانہ متھرا کے حدود میں ہوا ہے جہاں چند روز پہلے ورسک ڈیم ملازمین کی کرسچیئن کالونی میں چار خود کش حملہ آور داخل ہوئے تھے۔

٭ مردان میں خودکش حملے میں 12 ہلاک، پشاور میں حملے کی کوشش ناکام

پولیس اہلکاروں کے مطابق جمعرات کی صبح پولیس کی ریپڈ رسپانس فورس کی گاڑی درمنگئی کے قبرستان کے پاس موجود تھی جہاں دھماکہ ہوا۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے آٹھ اہلکاروں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے ۔

ہسپتال میں موجود حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عمریں 25 سے 27 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

پشاور کے اسی علاقے متھرا میں ورسک ڈیم کے ملازمین کی کرسچیئن کالونی میں چھ روز پہلے چار خود کش حملہ آور بھاری اسلحے سمیت داخل ہوئے تھے جنھیں مقامی سیکیورٹی گارڈز ، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔

ان شدت پسندوں کے حملے میں ایک مسیحی ملازم سیموئل مسیح ہلاک ہو گئے تھے۔

کرسچیئن کالونی کے حملے کے فوری بعد پولیس نے متعدد مقامی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔

تاہم واقعے کے تین روز بعد پولیس نے اسی علاقے سے چار مبینہ سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے اور ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ حملہ آور غیر ملکی تھے اور وہ تھانہ متھرا کی حدود میں ہی انھی سہولت کاروں کے پاس رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں