کینیا میں مسلمان طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ

کینیا کی ایک اعلیٰ اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مسلمان طالبات سکول یونیفارم کےساتھ حجاب پہن سکتی ہیں۔

کینیا کے آیسیولو کاونٹی کے میتھوڈسٹ چرچ نے حکومت کے اس حکم کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس میں مسلمان طالبات کو یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دی گئی تھی۔

کینیا کی اپیل کورٹ کا فیصلہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف تھا جس میں میتھوڈسٹ چرچ کی درخواست کو مانتے ہوئے سکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کو روک دیا تھا۔

میتھوڈسٹ چرچ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا تھا کہ مسلمان لڑکیوں کےسکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے سے سکول کے ماحول پر اثر پڑتا ہے۔

کینیا کی اعلیٰ اپیل کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بینچ نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا ہے کہ مذہبی تقاضوں کو پورا کرنا طالبات کا آئینی حق ہے۔

یہ مقدمہ آیسیولو کاونٹی میں واقع سینٹ پال کیون جانی سکینڈری سکول نےسکول یونیفارم کےساتھ حجاب پہننے اور سفید پینٹ پہننے کی ممانعت کے بعد شروع ہوا تھا۔

کینیا کی اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تعلیم کے شعبے سےمنسلک لوگوں کو چاہیے کہ وہ انسانی وقار، تنوع اور عدم تفریق کے اصولوں کو فروغ دیں۔

ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مذہبی لباس کو فیشن سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

کینیا میں پہلے ہی سرکاری سکولوں میں مسلمان طالبات کو یونیفارم کے ساتھ ججاب اور پردے کی اجازت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں