خیبر ایجنسی میں فضائی کارروائی، نو مبینہ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے

پاکستان میں وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب علاقوں میں فضائی کارروائی کی جس میں نو مبینہ شدت پسند ہلاک اور چار ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

یہ کارروائی جمعہ کو صبح کے وقت شروع کی گئی ہے ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ جنگی طیاروں نے وادی تیراہ میں کوکی خیل قبیلے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں نو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان کے چار ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم مقامی ذرائع کہتے ہیں کہ علاقے میں فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔

کوکی خیل قبیلے کے یہ علاقے انتہائی دور افتادہ ہیں جہاں مواصلات کا نظام بھی مناسب نہیں ہے جس وجہ سے اس علاقے میں رابطے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ کارروائی پاک افغان سرحد پر واقعے علاقوں میں کی گئی ہے اس سرحدی علاقوں میں گذشتہ ماہ کے وسط میں بھی سکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا ۔ ایک ہفتے کے دوران متعدد فضائی حملے کیے گئے تھے جس میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے

خیبر ایجنسی میں آپریشن ضرب عضب کے ساتھ خیبر ون اور پھر بعد میں خیبر ٹو کے نام سے فوجی کارروائیاں کی گئی تھیں۔ قبائلی علاقوں میں جنوبی وزیرستان ایجنسی کے بعد خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں طویل عرصے تک وقفے وقفے سے فوجی آپریشن کیے گئے ہیں ۔

خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے جن کی واپسی کا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔

گزشتہ روز باڑہ تحصیل کے مختلف قبائل کے لوگوں کی واپسی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ حکام کے مطابق ڈھائی ہزار کے لگ بھگ متاثرہ ان خاندانوں کی واپسی اکتوبر تک مکمل ہو سکے گی۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق تمام قبائلی علاقوں کے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔

اسی بارے میں