سائبر کرائمز کی تحقیقات ایف آئی اے کو سونپنے کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ درحواست حزب مخالف کی جماعت عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکریٹری اشتیاق چودھری نے دائر کی جس میں سائبر کرائم ایکٹ کی مختلف دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے گذشتہ ماہ منظور ہونے والے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی تحقیقات کی ذمہ داری وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو سونپنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری جمعے کو اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔

٭متنازع سائبر کرائم ایکٹ عدالت میں چیلینج

٭ ’اب پاکستانی سوشل میڈیا سہما سہما رہے گا‘

پارلیمنٹ سے اس بل کی منظوری کے باوجود یہ طے نہیں ہو سکا تھا کہ پولیس یا ایف آئی اے میں سے کون ایسے جرائم کی تحقیقات کرے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بھی سائبر کرائمز کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لینا ضروری تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی کابینہ سے سائبر کرائم کی تحقیقات کی منظوری کے بعد ایف آئی اے کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ زیر التوا مقدمات کو جلد از جلد نمٹائیں۔

ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت 20 ہزار سے زائد ایسے مقدمات زیر التوا ہیں جو سائبر کرائمز سے متعلق ہیں

ادھر پاکستان کے صوبہ پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ نے سائبر کرائم ایکٹ 2016 کے خلاف ایک درخواست پر وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

لاہو رہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے یہ نوٹس درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد 26 ستمبر کے لیے جاری کیے ہیں۔

سائبر کرائم ایکٹ 2016 کے خلاف یہ درخواست پاکستان کی حزب مخالف کی جماعت عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکریٹری اشتیاق چودھری نے دائر کی جس میں اس ایکٹ کی مختلف دفعات کو چیلنج کیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ سائبر کرائم ایکٹ کی دفعات آئین کے بنیادی حقوق اور آزادی رائے کے مخالف ہیں۔

پاکستان کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے گذشتہ ماہ سائبر کرائم ایکٹ کی منظور دی تھی اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس قانون پرگہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے روبرو درخواست گزار وکیل نے خدشہ ظاہر کیا کہ سائبر کرائم کا قانون سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسے آزادی اظہار پر پابندی بھی لگائی جاسکتی۔

سماعت کے دوران وکیل نے نشاندہی کی کہ ایکٹ میں سائبر دہشتگردی کی ایک شق شامل کی گئی ہے جس کے بعد سائبر کرائم ایکٹ انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے مساوی ایک قانون بن گیا ہے۔

درخواست گزار وکیل اشتیاق چودھری نے یہ قانونی اعتراض بھی اٹھایا کہ ملک میں ایک وقت میں دو مساوی قوانین کا کوئی جواز اور گنجائش نہیں ہے۔

درخواست میں یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ سائبر کرائم ایکٹ کی شق 18 کی وجہ سے ہتک عزت کا ایک نیا قانون متعارف کرا دیا گیا ہے اس طرح ایک وقت میں دو قوانین ایک دوسرے سے متصادم ہوجائیں گے۔

دلائل میں درخواست گزار وکیل نے تشویش ظاہر کی کہ سائبر کرائم ایکٹ کے ذریعے پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو لامحدود اختیار دے دیے گئے ہیں جس کے بعد ایف آئی اے بغیر کسی چھان بین کے کسی بھی شہری کے کمپیوٹر اور موبائل فون سے ڈیٹا حاصل کرسکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں