’فوجی اہلکاروں اور پولیس کے درمیان لڑائی کی تحقیقات جاری، انصاف ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قانون کے تحت اس واقعہ کے ساتھ نمٹا جائے گا تاکہ انصاف ہو سکے

پاکستانی فوج کے شبعۂ تعلقات عامہ نے پاکستان موٹروے پولیس اور فوج کے دو افسران کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایک مختصر بیان میں فوج نے کہا ہے کہ اس واقعہ پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی تاکہ انصاف ہو سکے۔

اکوڑہ تھانے میں فوج کے اہلکاروں کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کو سِیل کر دیا ہے۔

موٹر وے پولیس اہلکاروں کی جانب سے تھانہ اکھوڑہ میں دائر کردہ درخواست کے مطابق یہ واقعہ سنچر کو پیش آیا ۔

بی بی سی کو تھانے میں دائر کی جانے والی درخواست کی نقل موصول ہوئی ہے جس کے مطابق ’دو سویلین گاڑیوں میں سوار سادہ کپڑوں میں ملبوس دو نوجوان، تیز رفتار، نہایت غفلت، بے اختیاطی اور غلط سائڈ سے علاقہ جھانگیرہ کی طرف جا رہے تھےلیکن جب موٹر وے پولیس نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا تو انھوں نے گاڑیاں نہیں رکیں جس کے بعد پولیس نے ان کا تعاقب شروع کر دیا۔‘

درخواست میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ جب جہانگیرہ کے پاس دونوں گاڑیوں کو روکا گیا تو دونوں نوجوانوں نے اپنی گاڑیوں سے باہر نکلتے ہی جھگڑا شروع کر دیا۔

درخواست کے مطابق ’ایک نوجوان نائن ایم ایم پستول سے مسلح تھا۔دونوں نوجوان فوج میں کپتان ہیں۔‘

موٹروے پولیس اہلکاروں کے مطابق جھگڑے کے دوران دونوں فوجی اہلکاروں نے فون کر کے اپنے اور ساتھیوں کو بلایا۔ جس کے بعد ایک میجر، فوج کی چار گاڑیوں میں 25 سے 26 باوردی اہلکار لیکر موقع پر پہنچ گئے۔

اسی دوران موٹروے پولیس کے سب انسپیکٹر محسن طوری اور کیشیر شازیب شیر علی بھی حسب طلبی پہنچے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’فوج کے اہلکاروں نے بٹوں اور ڈنڈوں سے چاروں موٹروے پولیس اہلکاروں کو مارنا شروع کر دیا۔‘

فوجیوں کی’ مارپیٹ کا نشانہ بننے والے موٹروے پولیس اہلکاروں میں سب انسپکٹر عاطف خٹک، سب انسپیکٹر محسن طوری، اسسٹینٹ پٹرول افسر جلال شاہ اور کیشیر شازیب شیر شامل ہیں۔‘

درخواست کے مطابق مار پیٹ کے بعد فوجی اہلکار چاروں پولیس اہلکاروں کو گاڑیوں میں ڈال کر اٹک قلعہ لے گئے جہاں ’انھیں ذہنی تشدد کی غرض سے ایک گھنٹے دھوپ میں کھڑا رکھا گیا جس کے بعد انھیں چار گھنٹے تک ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔‘

موٹروے پولیس کے سینیئر افسران کی مداخلت کے بعد پولیس اہلکاروں کو فوجی گاڑیوں میں ڈال کر واپس ان کے دفتر چھوڑا گیا جس کے بعد زخمی اہلکاروں کو نوشہرہ ہسپتال لے جایا گیا۔

موٹروے پولیس کے ذرائع کے مطابق مار پیٹ کا شکار ہونے والے اہلکاروں میں سے دو شدید زخمی ہیں۔ موٹروے پولیس کے ذرائع کے مطابق دونوں فریق کے درمیان صلح صفائی کی کوششیں جاری ہیں تاکہ معاملہ بغیر قانونی چارہ جوئی کے ہی نمٹا دیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں