’بابا‘ اور ’جاناں‘ کے بغیر عید

تصویر کے کاپی رائٹ Yousaf Shah Family
Image caption سید یوسف شاہ کے سوگواران میں تین بچے ہیں

مردان بار کونسل کے کم عمر ترین جنرل سیکرٹریوں میں سے ایک، ایڈووکیٹ یوسف شاہ مردان کچہری میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئے۔ مردان کے علاقے گجر گڑھی میں کئی دن بعد بھی یوسف شاہ کے تذکرے ہیں اور ان کا گھر آج عیدِ قربان کے موقعے پر اداسی میں ڈوبا ہوا ہے۔

مردان منڈی میں آڑھت کا کاروبار کرنے والے، یوسف شاہ کے بڑے بھائی سید وقار شاہ نے غم زدہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ عید قربان پر یوسف شاہ دو بیل اپنے ہاتھوں سے قربان کیا کرتے اور ذوق و شوق سے گوشت تقسیم کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ، اب ہم بھی قربانی کر رہے ہیں مگر اس طرح کے غم میں مبتلا ہیں جو بیان نہیں کر سکتے۔

انھوں نے بتایا کہ سید یوسف شاہ کے سوگواران میں تین بچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سے یوسف شاہ ہم سے بچھڑے ہیں، ہماری بھابھی سیدہ فاطہ نور تب سے سکتے کی کیفیت میں ہیں، ’نہ بولتی ہیں نہ روتی ہیں، بس گم سم رہتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ نور روئے، چیخے چلائے اور اپنا سارا غم نکال باہر کرئے مگر محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اب سید یوسف شاہ اس دنیا میں نہیں رہے اور اب اس نے اپنی باقی زندگی سید یوسف شاہ کے بغیر گزارنی ہے۔‘

بات کرتے کرتے مضبوط اعصاب کے مالک سید وقار شاہ ایک لمحہ کے لیے آبدیدہ ہوگئے مگر خود کو سنبھالتے ہوئے بتانے لگے کہ پانچ سالہ عافیہ بتول، سید یوسف شاہ کی لاڈلی تھی۔ ’وہ جب بھی گھر آتے تھے، عافیہ کے ساتھ کھیلتے رہتے تھے۔ اب جب بھی عافیہ سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ سوال پوچھتی ہے کہ ’بابا‘ کدھر ہیںے کب آئیں گے، بابا نے عید کی شاپنگ پشاور سے کروانے کا وعدہ کیا تھا۔‘ کئی دفعہ اس امید پر ٹالا کہ بچی ہے بھول جائے گی۔ مگر گزشتہ روز اس نے کہا کہ یہ جو بینر لگے ہوئے ہیں ان پر میرے بابا کی تصویر ہے اور ان کو شہید کہا گیا ہے، ایسا کیوں ہے؟۔ اور اس نے خود ہی کہا ہے مجھے بھی شہید ہونا ہے تاکہ میں اپنے بابا سے مل سکوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Shahzad Khan Family
Image caption شہزاد خان کی پانچ سالہ بڑی بیٹی آویزہ اٹھتے بیٹھتے اپنے والد کو وہ ’جاناں‘ کہہ کر پکارتی تھی

کوئٹہ سول ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں زندگی سے ہاتھ دھونے والے فوٹو گرافر صحافی شہزاد خان کے گھر کی کہانی بھی مختلف نہیں ہے۔ شہزاد خان کی پانچ سالہ بڑی بیٹی آویزہ اٹھتے بیٹھتے اپنے والد جن کو وہ ’جاناں‘ کہہ کر پکارتی تھی، یاد کرتی ہے اور کئی روز گزرنے کے بعد بھی اس کی بے چینی میں کمی نہیں آئی ہے۔

ان کے بھائی بلاچ خان نے بتایا کہ ’شہزاد خان کے دو چھوٹے بیٹے تین سال اور ڈیڑہ سالہ تو بہل چکے ہیں، مگر آویزہ کسی بھی طور پر بہلنے کو تیار نہیں ہے۔ ہر وقت اپنے جاناں کو یاد کرتی ہے اور اس نے شوق سے خریدی ہوئی گڑیا سے بھی کھیلنا چھوڑ دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اب تو آویزہ کا سامنا کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے کہ اس کے سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔‘

بلاچ خان کا کہنا تھا کہ ’شہزاد خان کو ہر عید پر ڈیوٹی پر جانا ہوتا تھا اس لیے ان کا معمول تھا کہ نماز پڑھنے کے فوراً بعد ہی دبنہ قربان کرتے اور اس موقعے پر مجھے کہتے کہ قریب مت آنا خون سے کپڑے خراب ہوں گے اور خود آگے بڑھ کر قربانی کا کام کرتے۔‘

ڈسڑکٹ بار مردان کے صدر امیر حسین ایڈووکیٹ نے سید یوسف شاہ کو مردان بار کی رونق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سید یوسف شاہ اور دھماکے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے دیگر وکلاء کے بغیر بار کی رونقیں ماند ہوچکی ہیں۔ ہم اپنے ساتھیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔‘

یہ کہانی دو گھروں کی نہیں بلکہ دھشت گردی کی بھینٹ چڑھ جانے والے ہر گھر کی کہانی ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے عید قربان پر عید کی خوشیاں نہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

سیکرٹری بلوچستان بار کونسل ملک محمد عظیم کا کہنا تھا کہ ’وکلاء کی ایک پوری نسل ختم ہوچکی ہے۔ اس عید پر اپنے ساتھی وکلاء کے خاندانوں کا دکھ باٹنے کے لیے ہم بھی اپنے بچوں اور اہل خانہ کو نئے کپڑے نہیں دلائیں گے اور جتنا ہوسکے گا اپنے وکلاء ساتھیوں کے خاندانوں کے ساتھ ان کا دکھ بانٹیں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں