فاٹا میڈیا اور پارلیمان کا موضوع نہیں

Image caption قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے سنہ 1976 سے لے کر اب تک تقریباً 15 کمیشن اور کمیٹیاں مقرر کی گئیں ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے حکومتی کمیٹی نے اپنی تجاویز گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کے سامنے غور کے لیے رکھیں لیکن نا تو قومی میڈیا میں اور نہ ہی پارلیمان میں اس اہم ترین مسئلے پر کوئی زیادہ بات ہو رہی ہے۔

٭ مشاورت کے بغیر فاٹا اصلاحات کس حد تک قبول

٭’قبائلی خواتین کے حقوق کا فیصلہ مرد ہی کریں گے‘

پاکستانی میڈیا پر آج بھی ایم کیو ایم یا عید قرباں جیسے موضوع حاوی ہیں۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں دہشت گردوں کو پہلے خوش آمدید کہا گیا اور جس کے باغی عناصر ریاست کے مخالف ہوئے، یہ وہی علاقے ہیں جنھیں ان کی کوئی غلطی نہ ہونے کے باوجود ملک میں ’دہشت گردی کے گڑھ‘ جیسی بدنامی ملی۔ لیکن ان تمام مسائل کے خاتمے کے لیے جب حکومت کچھ سنجیدگی دکھا رہی ہے تو نہ میڈیا اور نہ ہی اسے پارلیمان کوئی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے سنہ 1976 سے لے کر اب تک تقریباً 15 کمیشن اور کمیٹیاں مقرر کی گئیں ہیں۔

ان سب کی تفصیلی سفارشات بھی سامنے آئیں لیکن زمینی حقائق ایک آدھ تبدیلی کے علاوہ مجموعی طور پر وہیں ہیں جو شاید قیام پاکستان کے وقت تھے۔ ماضی کی ہی ایسی ایک کمیٹی کو شکایت ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی نے ان کی سفارشات کٹ پیسٹ کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن اب آخری مرحلے میں ہے

فاٹا اصلاحات کے لیے قائم دس سیاسی جماعتوں کی ایک کمیٹی کے سربراہ اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما اجمل وزیر شکایت کرتے کہتے ہیں ان کی تیار کی گئی 11 سفارشات یہی ہیں جو تازہ کمیٹی نے تیار کی ہیں۔ ’اس مشاورت میں مسلم لیگ ن کے لوگ ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے دو سال تک عرق ریزی کی تھی تب ان تک پہنچے تھے۔ لیکن حکومتی کمیٹی نے شفارشات تو ہماری لیں لیکن ہم سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔‘

اکثر لوگوں کو یہ شکایت بھی ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی نے بھی ماضی کی روش کو قائم رکھا ہے اور جن اعدادوشمار کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی وہ کم از کم 20 سال پرانے ہیں۔

پھر ایک سوال جو بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے آپ کو اس پوزیشن میں دیکھتی ہے کہ وہ تمام فریقین کی رائے حاصل کرنے کے بعد کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے؟

حکمراں مسلم لیگ (ن) کے رہنما جان اچکزئی کہتے ہیں کہ ابھی ایسا کچھ نہیں ہے۔

’حکومت نے سب سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ہے۔ وہ وہاں کے عام لوگ ہیں، آئی ڈی پیز کی رائے معلوم کرنا ضروری ہے۔ خیبر پختوانخوا صوبے میں بہت سے لوگ ہیں جنہیں تشویش ہے انہیں اعتماد میں لینا ہے۔ پارلیمان میں سب کی رائے لی جانی ہے ابھی۔‘

اجمل وزیر کا تعلق خود بھی قبائلی علاقوں سے ہے اور سرکاری کمیٹی میں کسی قبائلی کی نمائندگی نہ ہونے کو ایک بڑی نا انصافی سمجھتے ہیں۔

دوسرا عام قبائلی کو یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ الگ صوبہ بنے یا خیبر پختونخوا میں ضم ہونے سے انھیں کون سے فوائد یا نقصانات ہوسکتے ہیں۔ ایسی کوئی آگہی مہم تو درکنار سرکاری کمیٹی نے بس اپنا فیصلہ سنا دیا کہ قبائلی علاقے خیبر پختونخوا میں ضم کرنا ان لوگوں کے لیے بہتر ہے۔

اجمل وزیر کہتے ہیں ایسا کوئی انتظام نہیں ہوا ہے کہ عام قبائلی کو آگاہ کر کے ان کی رائے لی جائے۔ ’ابھی تو وہ آئی ڈی پیز ہیں۔ پہلی ترجیح انہیں واپس لے جانے اور ان کے نقصانات پورے کرنے میں ہے۔ وہ ذہنی طور پر دیگر فکروں سے آزاد تو ہوں پھر ہی کوئی فیصلہ کر پائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فاٹا میں جہاں کاروبار اور دیگر ادارے تباہی کا شکار ہوئے وہیں گذشتہ برسوں میں تعلیمی ادارے بھی شدت پسندی کا نشانہ بنے

فاٹا کے بعض لوگ دہشت گردی کا تمام ملبہ ان کے خطے پر مسلط کرنے کی شکایت آج بھی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں اکثر آبادیوں کو بلا وجہ نشانہ بنایا گیا اور اب وہاں مقامی لوگوں کو دوبارہ آبادی کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ کبھی مقامی انتظامیہ، کبھی حکمرانوں اور کبھی فوج کے پاس دھکے کھاتے گھوم رہے ہیں۔

آخر قبائلی علاقوں میں کس کی چل رہی ہے؟

مسلم لیگ ق کا رکن ہونے کی وجہ سے اجمل وزیر اپنی توپوں کا رخ حکمراں جماعت کے وزرا کی جانب کرتے ہیں۔ ’وزیر دفاع خواجہ آصف بولتے تو بہت ہیں لیکن کبھی نہیں گئے قبائلی علاقے۔ اسی طرح وزیر اطلاعات بھی ہیں۔‘

سیاستدانوں کو سکیورٹی ادارے وہاں جانے کی کتنی اجازت دیتے ہیں اس سے قطع نظر مسلم لیگ ن کے جان اچکزئی تسلیم کرتے ہیں کہ ایک عام قبائلی کی صیح رائے جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ریفرنڈم ہو لیکن بقول ان کے حالات اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ’اگرچہ تمام کارروائیاں ختم ہوچکی ہیں لیکن بعض علاقوں میں ابھی بھی خدشات موجود ہیں۔ پھر آئی ڈی پیز کی بڑی تعداد ہے ایسے میں ریفرنڈم ابھی ممکن نہیں۔ وہاں خلا بننے نہیں دینا لہذا کسی نئے نظام کی فوری ضرورت ہے۔‘

نیا فوری سیاسی نظام کیا ہوسکتا ہے اس بارے میں بھی سرکاری کمیٹی نے رائے دی ہے کہ یہ مقامی رواج پر مشتمل ہو۔ لیکن اگر یہ خطہ خیبر پختوانخوا میں ضم کیا جاتا ہے وہ یہ صوبہ ایک ایسا صوبہ ہوگا جس میں تین قسم کے قوانین رائج ہوں گے: پاکستانی قانون، مالاکنڈ کا نظام عدل اور قبائلی علاقوں کا رواج۔

ایسے میں اجمل وزیر جیسے قبائلی اور حزب اختلاف کے سیاستدان مستقبل کے بارے میں کوئی زیادہ پرامید نہیں۔ لیکن حکومت کہتی ہے اس حساس موقع پر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا اب بھی لازم ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق قبائلی علاقوں میں اصلاحات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ملک کے خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی کے بغیر ان کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں