کوئٹہ میں پرتشدد واقعات میں سات ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

٭ بم دھماکے میں بلوچستان کانسٹیبلری کا اہلکار ہلاک

٭ کوئٹہ واقعے پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

ضلع کیچ کی انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ تمپ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص نیک بخت کے گھر پر حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں نیک بخت اور ان کا ایک بیٹا ہلاک ہوگئے۔

بتایا گیا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکلوں اور گاڑی پر سوار تھے جنھوں نے فرار ہوتے ہوئے نیک بخت کے ایک بیٹے کو اغوا بھی کرلیا۔

بلوچستان میں شورش سے متاثرہ علاقوں میں گذشتہ چند عرصے سے لوگوں کے گھروں پر حملوں کے واقعات بھی پیش آرہے ہیں۔

کیچ ہی کے علاقے مند میں بھی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔ مارے جانے والے شخص کی شناخت مند کے مقامی کی حیثیت سے ہی ہوئی ہے۔

کیچ سے متصل ضلع آواران سے تین افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں ہیں۔

آواران میں انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ انھیں نامعلوم مسلح افراد نے دو روزقبل ضلع کے علاقے جھاؤ کے پہاڑی علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد ضلع آواران کے مقامی تھے جن میں دو سگے بھائی شامل تھے۔ ان افراد کو ہلاک کرنے کے محرکات بھی تاحال معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے متصل ضلع نصیرآباد کے علاقے چھتر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

نصیر آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی۔ یہ بارودی سرنگ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گئی۔

دھماکے کی وجہ سے موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔

حالات کی خرابی کے بعد سے ڈیرہ بگٹی سے متصل ضلع نصیر آباد کے علاقوں کے علاوہ آواران اور کیچ کے اضلاع میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات میں لوگوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں میں پہلے کے مقابلے میں اب حالات میں بہتری آئی ہے ۔

دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے ضلع نصیر آباد کے علاقے چھتر اور ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور ان کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں