بلوچستان اور سندھ کی سرحد پر مشترکہ نگرانی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری اعلامیہ کے مطابق سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری سے فون پر رابطہ کیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے شکارپور سے گرفتار ہونے والے مبینہ خود کش حملہ آور کے انکشافات کے بعد سندھ اور بلوچستان کے وزرا اعلیٰ نے یہ طے کیا ہے کہ دونوں صوبوں کی پولیس ایک دوسرے سے مربوط روابط قائم کر کے سرحدی علاقوں میں نگرانی اور چیکنگ کا مشترکہ نظام قائم کریں گی۔

واضح رہے کہ یہ خود کش حملہ آور شکار پور میں نماز عید کے موقعے پر ایک ناکام خود کش حملے کے دوران گرفتار ہوا تھا ۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری سے فون پر رابطہ کیا۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ نے سندھ کے حکام کے حوالے سے اس حملہ آور کے مبینہ انکشافات کے تناظر میں جو خبریں دی تھیں ان خبروں کے مطابق دونوں حملہ آور بلوچستان کے راستے شکار پوع پہنچے تھے۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں بھی قیام کیا تھا۔

اعلامیہ کے مطابق دونوں وزراء اعلیٰ نے طے کیا ہے کہ سماج دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں صوبے مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے۔

اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے درمیان امن و امان سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کے علاوہ یہ طے کیا گیا کہ سرحدی علاقوں میں مشترکہ چیکنگ کا نظام قائم کیا جائے گا تاکہ دہشت گرد، شر پسند اور سماج دشمن عناصر کسی کارروائی کے بعد دوسرے صوبے میں داخل نہ ہو سکیں۔

دونوں وزرائے اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی چاہے کسی بھی صورت میں ہو، اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا اور دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا کر کے انھیں کیفرکردار تک پہنچایا جائیگا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا کہ ان کی حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں