پسِ پردۂ سیمیں!

Image caption فلم ایکٹر ان لا میں معروف انڈین اداکار اوم پوری بھی ہیں

اس سال عید پر تین پاکستانی فلمیں سینماؤں کی زینت بنیں۔ ’ایکٹران لا‘، ’جاناں‘ اور ’زندگی کتنی حسین ہے‘۔ سینماؤں پہ بہت رش ہے اور ہمارے دوست فلم ساز اتنے خوش ہیں کہ ان کی خوشی نے ہمیں کچھ دیر کے لیے کشمیر یوں کا غم بھی بھلا دیا۔

زیادہ پرانی بات نہیں کہ سکول سے واپسی پر اکثر ایک تانگہ، فلموں کے پوسٹروں سے سجا، ڈھول مجیروں کی آوازوں سے گونجتا کہیں نہ کہیں نظر آجاتا تھا۔ یہ اس دور میں فلموں کی تشہیر کا ایک عام طریقہ تھا۔ اس وقت نہ میری عمر اتنی تھی اور نہ ہی فلم سے کچھ خاص شغف تھا، لیکن تب بھی ان پوسٹرز کو دیکھ کر جمالیات کو بہت دھکا لگتا تھا۔ چاچا گامو اور اماں پھتی کو بطور ہیرو ہیروئن دیکھنا اور وہ بھی اس صورت کے، چاچا مغلوب الغضب اور اماں پھتی جملہ اخلاقیات سے کوسوں دور ہوں اور ان کو اپنے سفید بالوں کی شرم ہو اور نہ ہی عمر کا پاس۔ ظاہر ہے فلم بینی کا شوق، پیدا ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔

امی اور نانی اماں کے سنبھال کے رکھے ہوئے رسائل اور اخبارات کے تراشے پڑھ کر حیرت ہوتی تھی کہ یہ لوگ فلم والوں سے اس قدر متاثر کیوں تھے؟ اے حمید کی کہانیوں میں بمبئی بھاگ جانے والوں کے قصے اور وہ دور جب لاہور کی فلم انڈسٹری کا جادو سر چڑھ کے بولتا تھا۔ مسلم ٹاؤن اور گلبرگ میں فلم سازوں اور اداکاروں کے گھر اور ان کے الف لیلوی قصے، باری اور شاہ نور سٹوڈیوز کا عروج، یہ سب ادوار بائسکوپ سے نظر آنے والے مناظر کی طرح جلدی جلدی گزر جاتے ہیں۔

میری نسل کے لوگوں کی سماجی زندگی میں سینما کی جگہ نہیں ہے۔ کل کے فلم بین کے پاس فلم کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہمارے ہاتھ میں موجود سمارٹ فون ہی ہماری پوری زندگی ہے اور اس زندگی میں سینما کی جگہ بنانا ایک مشکل کام ہے۔

Image caption عید پر ریلیز ہونے والی فلموں میں زندگی کتنی حسین ہے بھی شامل ہے

دنیا بھر کا سینما، وی سی آر کے آنے سے متاثر ہوا، لیکن پاکستانی سینما اندرونی وجوہات سے تباہ ہوا۔ فلم ایک بہت بڑا میڈیم ہے۔ ناول کی طرح اس کا اثر بھی بہت گہرا ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح برسوں سے پاکستان میں کوئی بڑا ناول، اردو میں نہیں لکھا گیا، وہی حال فلم کا ہے۔

فلمیں بن رہی ہیں لیکن ابھی تک ان کو رحم، محبت اور ہمدردی کے جذبے کے تحت دیکھا جا رہا ہے اور پنجابی محاروے کے تحت’ اتھرو پونجن‘ کا انعام دیا جا رہا ہے۔ جسے اردو میں حوصلہ افزائی کا انعام کہا جاتا ہے اور اکثر اس بچے کو دیا جاتا تھا، جسے آدھی تقریر بھول جاتی تھی۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم فلم کو ایک انڈسٹری بنا نا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے انڈسٹری کے طور پر ہی لے کر چلنا ہو گا۔ ستائش ِ باہمی اور حبِ الوطنی کا کارڈ کب تک کھیلا جائے گا؟

موجودہ فلم ساز، یا تو اداکار ہیں یا وہ پروڈیوسر جنھوں نے ڈرامے سے پیسہ بنایا اور اب اس نئی دنیا میں قدم جمانا چاہ رہے ہیں۔ لکھنے والے، اداکار، شاعر، موسیقار، کیمرہ مین، سب ہی ڈرامے سے آرہے ہیں۔

ان فلموں کا بجٹ مضحکہ خیز حد تک کم ہوتا ہے۔ اکثر فلمیں صرف دوستی اور آنکھ کے لحاظ میں یا تو مفت لکھ کر دی جاتیں ہیں یا ان کا معاوضہ بہت ہی کم ہوتا ہے۔ بعض پروڈیوسر تو اتنے فنکار ہیں کہ 26 اقساط کا سیریل لکھوا کے شوٹ کر لیتے ہیں پھر اسی میں سے ایڈٹ کر کے فلم نکال لیتے ہیں۔ کئی فلمیں جنھیں تمغے کی طرح ٹانگے ٹانگے نہیں تھکتے، اسی جگاڑو رویے کا شاہکار ہیں۔

Image caption پاکستانی فلم کے لیے بڑے بزنس مین کو سامنے آنے کی ضرورت ہے

پھر بھی لوگ پاکستانی فلم دیکھنے جاتے ہیں، پاکستانی فلم میں کام کر رہے ہیں اور مستقبل کے لیے پر امید ہیں۔ یہ سب خوش آئند باتیں ہیں۔ لیکن چونکہ میں نے سینیما کو ڈوبتے دیکھا ہے، اس لیے ڈرتی ہوں کہ یہ نیا سینما جو پرانے سینما سے بالکل فرق ہے یہ بھی یکسانیت اور اس قسم کی استادیوں کا شکار ہو کر ختم نہ ہو جائے۔

فلم انڈسٹری کی کامیابی کے لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ موضوعات کا تنوع ہو۔ دوسری بات یہ کہ آپ کو اپنی ثقافت کا اندازہ ہو۔ پچھلے فلم سازوں نے اپنا کینوس چھوٹا کیا تو سب کچھ تباہ ہو گیا۔ موجودہ پاکستان، تہذیبی لحاظ سے، ایران، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ وغیرہ سے زیادہ مماثلت رکھتا ہے۔

بنگال کے علیحدہ ہونے کے بعد ہمارے پاس جو خام مال مو جود ہے اس سے ہم موضوعاتی اعتبار سے مضبوط فلم تو بنا سکتے ہیں لیکن بے لچک جسموں والی لڑکیوں کے بے وجہ کے رقص جمالیات کو شدید دھچکا پہنچاتے ہیں۔

ہم فلموں میں موضوع، کہانی، الفاظ، گیت، موسیقی کے نئے تجربات تو کر سکتے ہیں لیکن جو گلیمر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ممکن نہیں۔ نہ ہمارے ہاں ڈانس اکیڈمیز ہیں، نہ ہی اچھے کوریوگرافر۔ نہ ہی آپ یہ سب سہولیات ایک رات میں پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ بڑے بز نس مین اس معا ملے میں دلچسپی لیں اور سر مایہ کاری کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہم فلموں میں موضوع، کہانی، الفاظ، گیت، موسیقی کے نئے تجربات تو کر سکتے ہیں لیکن جو گلیمر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ممکن نہیں

سرمایہ کاری صرف فلم سازی تک محدود نہیں۔ اس کے لیے نئے سینیماہاؤسز کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ سرکٹ جتنا بڑا ہوگا، انڈسٹری بھی اتنی مضبوط ہوگی۔ سرکٹ بڑا تب ہی ہوگا جب فلم کے موضوعات تمام فلم بینوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ پاکستان کی اردو فلم صرف شہروں میں ہی نہیں دیکھی جائے گی، آبادی کا ایک بڑا حصہ دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں مقیم ہے۔ ان کے مسائل، پسند نا پسند، سب ہی شہر کے فلم بینوں سے مختلف ہیں۔

چھ کروڑ یا سات کروڑ کا بزنس اتنا بڑا نہیں کہ اس کو دیکھتے ہوئے ہم آنے والے وقت میں ایک مضبوط انڈسٹری کی امید رکھیں۔ فلم کو انڈسٹری تک لے جانے کے لیے، کمیٹیاں ڈال کے ایک دو فلمیں تو بنائی جا سکتی ہیں لیکن جس معیار پہ بڑی فلم بنتی ہے اس کے لیے، بڑے بزنس مینوں کو آگے بڑھنا چاہیے اور ان باہمت فلم سازوں کی جلائی ہوئی شمع کو لے کر مستقل بنیادوں پہ ایک فلم انڈسٹری کی داغ بیل ڈالنی چاہیے، جس میں سب لوگ رفا عی جذبے کی بجائے پیشہ ورانہ دیانت سے کام کریں اور اپنے حصے کی مالی آسودگی حاصل کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں