’دہشت گردی کو اندر سے بھی حمایت اور مدد حاصل ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ نہ صرف وکلا برادری بلکہ عدلیہ کو بھی دہشت گردی کا سامنا ہے

پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اس میں اگرچہ اکثر اوقات بیرونی ہاتھ شامل ہوتا ہے مگر اسے کہیں نہ کہیں سے ہمارے اندر سے بھی حمایت اور مدد حاصل ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں بدقسمتی سے بعض سیاسی جماعتیں بھی اپنے مفادات کی خاطر ان عناصر کی حمایت کرتی ہیں۔‘

جیساکہ کراچی بد امنی کیس اور بلوچستان بدامنی کیس میں یہ عدالت اس بات کا ذکر کر چکی ہے کہ بعض تخریبی عناصر کے روابط اور تعلقات مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں سے پائے گئے ہیں جس کا فوری تدارک کیا جانا چاہیے۔

نیا عدالتی سال شروع ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’مذہب کی بنیاد پر تقسیم سب سے زیادہ قابل فکر امر ہے۔ اس سے معاشرے میں نہ صرف امن و امان کی صورتحال پر منفی اثر پڑتا ہے بلکہ دہشت گردی کو بھی فروغ ملتا ہے۔‘

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ نہ صرف وکلا برادری بلکہ عدلیہ کو بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔

’کیونکہ جب دہشت گردوں، تخریب کاروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو سزا دینے کا معاملہ آتا ہے تو وکلا کی معاونت کے ساتھ عدلیہ کو یہ فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ لہٰذا فراہمی انصاف کے اس ادارے کو خوف زدہ کرنے کی نیت سے تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’آئین میں تمام اداروں کے فرائض اور دائرہ اختیار کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ لہٰذا اداروں کے لیے ضروری ہے کہ اپنی آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کریں۔ اسی صورت میں ملک کے اندر گڈ گورننس کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔‘

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ’ملک کی بدلتی ہوئی معاشرتی اور اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام ریاستی اداروں کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں اور باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھیں۔‘

Image caption چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ملک کی بدلتی ہوئی معاشرتی اور اقتصادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تمام ریاستی اداروں کے لیے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں اور باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھیں

اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں کچھ عناصر کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ شاید اداروں میں تصادم کی سی صورتحال ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے عدلیہ اور مقننہ نے بین الادارتی مکالمہ کی ضرورت محسوس کی۔

اس سلسلے میں پہلے سپریم کورٹ کی دعوت پر چیئرمین سینیٹ نے سپریم کورٹ میں خطاب کیا۔ جس کے بعد 30 نومبر2015 کو میں نے عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے عدالتی اصلاحات کے حوالے سے سینیٹ میں خطاب کیا۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ’ماضی میں اس عدالت پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ یہ انتظامی معاملات میں ضرورت سے زیادہ ہی مداخلت کرتی ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے کوشش کی کہ از خودکارروائی کے اختیار کوکم سے کم استعمال کیا جائے۔‘

’مگر اپنی آئینی ذمہ داری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ عدالت اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی اور جہاں بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو وہاں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کا تدارک کیاجائے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں