’انڈیا میں غیر ضروری سیاسی پناہ کے اثرات ٹھیک نہیں ہوں گے‘

Image caption برطانیہ میں سیاسی پناہ ملی ہوئی ہے تو انڈیا کیوں جاؤں؟

بلوچ قوم پرست رہنما حربیار مری کا کہنا ہے کہ وہ بلوچ جن کی زندگی کو خطرہ ہے انھیں کسی بھی ملک میں اگر پناہ ملتی ہے تو لینی چاہیے لیکن اگر بلوچ غیر ضروری طور پر انڈیا میں سیاسی پناہ لیں تو اس کے اثرات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

٭ ’آزادی کے لیے انڈیا سے کبھی مدد نہیں مانگیں گے‘

بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں حربیار مری کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے غیر ضروری طور پر انڈیا میں سیاسی پناہ لینے کا فائدہ جہادی گروپ اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے ان بلوچوں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے جو مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

لندن میں مقیم جلا وطن قوم پرست رہنما کا کہنا تھا کہا کہ فی الحال نہ تو ان کا انڈیا میں سیاسی پناہ لینے کا اردارہ ہے اور نہ ہی انھوں نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں برطانیہ میں سیاسی پناہ ملی ہوئی ہے تو وہ انڈیا کیوں جائیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مسقبل میں برطانیہ میں حالات مشکل ہوئے تو وہ پھر ساتھیوں کے مشورے سے ہی فیصلہ کریں گے۔‘

کچھ بلوچ قوم پرست یہ سمجھتے ہیں کہ جنیوا میں مقیم بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے جلاوطن سربراہ براہمداغ بگٹی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کے فیصلے کا بلوچوں کی آزادی کی تحریک پر منفی اثر پڑے گا اور یہ کہ اس سے پاکستان کے ان الزامات کو شاید تقویت ملے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں بلکہ انڈیا بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں حربیار مری کا کہنا تھا کہ ’برہمداغ بگٹی کی اپنی سوچ ہے اور وہ اس سوال کا جواب خود دیں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بلوچ رہنماؤں کو ان عام بلوچوں کے بارے میں پہلے سوچنا چاہیے جن کی زندگیوں کو پاکستان میں خطرہ ہے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جن کی سیاسی پناہ کے کیسز یورپ میں مسترد ہو چکے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں