چکوٹھی سیکٹر: ’لوگ پریشان، فوج چوکنا ‘

Image caption چکوٹھی سیکٹر ماضی میں بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا نشانہ بنتا رہا ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب اوڑی میں انڈین آرمی پر حملے کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی اور مقامی لوگوں میں سراسیمگی کا عالم ہے۔

چکوٹھی سیکٹر میں ایل او سی کے قریبی علاقوں میں احتیاطاً مقامی سکولز کو بند رکھا گیا جبکہ فوج نے مقامی لوگوں کو کشیدگی کے پیشِ نظر ہوشیار رہنے کو کہا ہے۔

چکوٹھی اوڑی سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جس کی وجہ سے حملے کے وقت ایل او سی کے پار سےدھوئیں کے سیاہ بادل اِس طرف بھی دکھائی دے رہے تھے۔ گولیاں چلنے اور دھماکوں کی آوازوں سے مقامی لوگوں کو خدشہ تھا کہ کشیدگی بڑھی تو کسی بھی وقت توپوں کا رخ ان کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔

چکوٹھی کے رہائشی اور مقامی سکول کے سابق پرنسپل تمیزالدین کا کہنا تھا کہ ’لوگوں میں پریشانی کی کیفیت صاف ظاہر ہے اور فوج بھی چوکنا ہے لیکن ماضی کے تجربات کے پیشِ نظر لوگ زیادہ گھبرا نہیں رہے۔‘

ایل او سی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چکوٹھی بازار میں خطرے کے علامتی سرخ جھنڈے لہرا دیے گئے ہیں اور ایسے ہی جھنڈے ایل او سی کی دوسری جانب بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ چکوٹھی بازار کے سرے پر واقع گیٹ پر سکیورٹی چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔ علاقے میں پیر کی رات ہیلی کاپٹر نے بھی پروازیں کیں۔

Image caption چکوٹھی سے آگے جانے والی نجی گاڑیوں کو بھی لائن آف کنٹرول کے سامنے کے دیہات میں جانے سے فی الوقت منع کر دیا گیا ہے

مقامی دکاندار کفایت حسین نے بتایا کے ’اب بازار کے گیٹ سے آگے مقامی لوگوں کو بھی سخت چیکنگ کے بعد جانے دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو اپنے شناختی کارڈ ہر وقت اپنے ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘

اس کے علاوہ چکوٹھی سے آگے جانے والی نجی گاڑیوں اور ٹیکسیوں کو بھی لائن آف کنٹرول کے سامنے کے دیہات میں جانے سے فی الوقت منع کر دیا گیا ہے۔

چکوٹھی گاؤں میں بازار کی رونق تو قدرے ماند ہے لیکن سکول حسبِ معمول کھلے ہیں۔ سکولوں کو کسی قسم کی ہدایات تو جاری نہیں کی گئی تاہم اساتذہ اور عملہ خود ہی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے خبردار ہیں۔

ایک نجی سکول کی استانی کرن ظہیر کا کہنا ہے کہ ’ہماری پرنسپل کےساتھ میٹنگ ہوئی تھی۔ سکول کے بچے چھوٹے ہیں اور ان کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے اس لیے ہم نے پہلے سے زیادہ خبردار رہنے کے حوالے بات چیت کی تھی۔‘

چکوٹھی سیکٹر ماضی میں بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ یہاں سنہ 1998 میں سرحد کے دونوں جانب ہونے والی کشیدگی کے باعث لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی اور ان میں سے بیشتر دو سال کے بعد واپس آْبائی گھروں کو لوٹے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں