ایم کیو ایم کےخلاف درخواست فل بینچ کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ epa

لاہور ہائیکورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کی سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹریشن کی منسوخی کےلیے درخواست سماعت کے لیے ہائیکورٹ کے فل بینچ کو بھجوا دی ہے

ہائیکورٹ نے درخواست پر ایم کیو ایم کو بھی موقف پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

یہ احکامات چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے مقامی وکیل سردار آفتاب ورک کی اس درخواست پر دیے جس میں ایم کیو ایم کی سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹریشن کی منسوخی کی استدعا کی گئی ہے۔

منگل کو کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل احمد اویس نے نشاندہی کی کہ ایم کیو ایم کی رجسٹریشن کی منسوخی کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست دی تھی لیکن اس درخواست پر ابھی تک کوئی کارروائی یا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

وکیل کے مطابق قانون کے تحت وفاقی حکومت ہی کسی ایسی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کی منسوخ یا پھر اس پر پابندی لگا سکتی جو محب وطن نہ ہو۔

احمد اویس ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ایم کیو ایم کے قائد کی پاکستان مخالف تقریر سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ایم کیو ایم محب وطن سیاسی جماعت نہیں ہے۔

وفاقی حکومت کی وکیل حنا حفیظ نے بتایا کہ درخواست موصول ہوگئی ہے۔سرکاری وکیل کے مطابق وفاقی حکومت کسی درخواست پر فیصلہ کےلیے ٹائم فریم کی پابند نہیں کیونکہ درخواست پر کب فیصلہ کرنا ہے، یہ حکومت کی صوابدید ہے۔

درخواست گذار کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان نے حلف لے رکھا ہے کہ وہ ملک کی سالمیت کا تحفظ کریں گے۔

وفاقی حکومت کی وکیل حنا حفیظ نے بتایا کہ ایم کیو ایم اور ان کے قائد الطاف حسین کےخلاف ایک نوعیت کی درخواستیں ہائیکورٹ کے رکنی فل بنچ کے سامنے زیر سماعت ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصورعلی شاہ نے ایم کیو ایم کی رجسٹریشن کی منسوخی کی درخواست ہائیکورٹ کے فل بینچ کو بجھوا دی۔

خیال رہے ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین بنچ نے الطاف حسین پر غداری کے مقدمے کے اندراج کے لیے ایک ہی نوعیت کی دیگر درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔

ہائیکورٹ کے اسی تین رکنی بنچ نے الطاف حسین کی تقاریر شائع اور نشر کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ تین رکنی بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس مظہر سندھو اور جسٹس ارم سجاد گل شامل ہیں۔

ایم کیو ایم کی رجسٹریشن کی منسوخی کے لیے درخواست پر مزید کارروائی پانچ اکتوبر کو ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں