’سری پائے کھانے کے لیے نیند کی قربانی لازمی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

٭ پاکستانی کھانوں کے بارے میں بی بی سی اردو کی سیریز کی دوسری قسط میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ناشتے پر نظر ڈالی گئی ہے۔ اس سیریز سے متعلقہ تحریریں اور ویڈیوز ہر ہفتے بدھ کو ویب سائٹ پر شائع کی جائیں گی۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد جب امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس کی کوریج کے لیے غیر ملکی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان آئی تھی اور ایسی ہی ایک جاپانی صحافی کی معاونت کرتے ہوئے لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔

جب ہم لاہور پہنچے تو فجر کا وقت ہونے میں کچھ وقت باقی تھا لیکن اس کے باوجود چہل پہل دیدنی تھی۔

٭ گوجرانوالہ: آدھی آبادی کھانا بنانے، آدھی کھانے میں مصروف

جاپانی صحافی کا خیال تھا کہ ہمسایہ ملک کی طرح پاکستان میں بھی جنگ کی سی صورتحال ہوگئی ہے، اس لیے لوگ اتنی جلدی اُٹھ گئے ہیں۔

میں اس کی تسلی کے لیے اسے ایک قریبی دوکان پر لے گیا جہاں پر لاہوری انہماک سے سری پائے کھانے میں مصروف تھے اور اسے بتایا کہ یہاں حالات ہنگامی نہیں بلکہ یہ ’کھانے پینے کی ایمرجنسی‘ ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ناشتے میں مصروف دیکھ کر ہی اس خاتون صحافی کو تسلی ہوئی کہ یہ صبح خیزی اس شہر کا معمول اور اس کی وجہ حالات نہیں بلکہ خوش خوراکی ہے۔

بازار کا ناشتہ لاہوریوں کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے اور اندرون لاہور میں گوالمنڈی کی فوڈ سٹریٹ ہو یا بھاٹی گیٹ، پرانی انارکلی کا علاقہ ہو یا ایبٹ روڈ اور ٹیمپل روڈ کے علاقے یا پھر قدیم بازار حسن کا علاقہ علی الصبح لاہوریوں سے بھرا ملتا ہے۔

اس رحجان کی وجہ سے شہر میں حلوہ پوری اور مرغ چنوں سے لے کر ہریسہ، نہاری اور سری پائے تک ناشتے کے وسیع ورائٹی دستیاب ہے جن میں سے سری پائے کی ڈش کو لاہوریوں کا مرغوب ترین ناشتہ کہا جا سکتا ہے۔

یہاں سری پائے کی ڈش بڑے پیالوں میں پیش کی جاتی ہے اور اسے کھانے والوں میں بڑوں اور بچوں کی کوئی تمیز نہیں بلکہ اگر بچے پیالے میں موجود سالن سے ’انصاف‘ نہ کر پائے تو اسے ساتھ لانے والے بزرگ ناراضگی کا اظہار کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

75 سالہ قربان علی گذشتہ 55 سال سے روزانہ گھر کی بجائے باہر سے ناشتہ کرتے آئے ہیں اور وہ ان عمر رسیدہ افراد میں شامل ہیں جو روزانہ ناشتے کے دکانوں پر خوراک سے انصاف کے بعد محفل جمائے نظر آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم لوگوں نے اپنے گروپ بنائے ہوئے ہیں جو علی الصبح اُٹھ کر باغ جناح اور شالامار باغ میں سیر کرنے کے بعد ناشتے کے لیے اندرون شہر کا رخ کرتے ہیں اور یہ روزانہ کا معمول ہے۔‘

قربان علی نے بتایا کہ جب تک وہ باہر سے ناشتہ نہ کرلیں اس وقت تک اُن کا نشہ ہی پورا نہیں ہوتا۔

اُنھوں نے کہا کہ لاہور میں بہت سی ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں لوگ بیس روپے سے لے کر دو ہزار روپے تک کا ناشتہ کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ ناشتے کے شوقین ہیں تو پھر آپ کو جلد بیدار ہونا ہوگا کیونکہ صبح سات بجے تک سری پائے ختم ہوجاتے ہیں تاہم آپ کو حلوہ پوڑی، مرغ چنے یا ہریسہ صبح سات بجے کے بعد بھی مل سکتا ہے۔

اندرون لاہور کی ان دکانوں میں آپ صبح جتنی جلدی بھی پہنچنے کی کوشش کریں وہاں پہلے سے لوگوں کو موجود پائیں گے جن میں سے کچھ سری پائے کا ناشتہ کر رہے ہوں گے۔

گوالمنڈی کی فوڈ سٹریٹ میں بیٹھے عبدالرحیم بھی انھی میں سے ایک تھے۔

عبدالرحیم تین سال بعد کینیڈا سے واپس لوٹے تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ رات ایک بجے کینیڈا سے وطن پہنچنے کے بعد انھوں نے اپنے گھر کا رخ کرنے کی بجائے فوڈ سٹریٹ کا رخ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر گھر چلے گئے تو سری پائے کھانے سے محروم رہیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنے اس پسندیدہ ناشتے یعنی سری پائے پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں اور جب تک وہ یہ ’ کھابے نہ کھائیں، تسلی ہی نہیں ہوتی۔‘

اسی گروپ میں مطلوب احمد نامی ایک ایسے صاحب بھی تھے جو حال ہی میں دل کے آپریشن اور ڈاکٹروں کی شدید تنبیہ کے باوجود ذوق و شوق سے سری پائے کھاتے دکھائی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن یہ افسوس نہیں رہنا چاہیے کہ بھوکے مرگئے۔‘

سری پائے کھانے کے بعد اگر میٹھی لسی نہ پی جائے تو لاہوریوں کا ناشتہ مکمل نہیں ہوتا۔ اس شہر میں میٹھی لسی کو عام زبان میں ’جامِ غفلت‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ چکنائی سے بھرپور ناشتے پر میٹھی لسی پینے والے پر نیند کا غلبہ طاری کر دیتی ہے اور اس کے پاس ناشتے کے بعد ایک بار پھر سونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں