الطاف حسین کے خلاف ایم کیو ایم کی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قرارداد میں کہا گیا تھا کہ 22 اگست کو پاکستان مخالف نعرے لگائے جانے اور لندن سے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی متنازع اور اشتعال انگیز تقریر اور ملکی سالمیت پر حملے اور میڈیا ہاؤسز بلخصوص اے آر وائی پر حملوں کی یہ ایوان شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کے خلاف ان کی اپنی ہی جماعت کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔

اس قرارداد میں الطاف حسین کی جانب سے 22 اگست کو کراچی پریس کلب کے باہر کارکنوں سے کیے گئے خطاب اور میڈیا ہائوسز پر حملوں کے خلاف مذمت کی گئی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملوث افراد کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ قرار داد لا کر سیاسی مشکلات کا شکار ایم کیو ایم، اسمبلی میں سیاسی تنہائی سے بچ گئی۔

یہ قرار داد ایم کیو ایم کے سینئر رہنما سید سردار احمد نے پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا تھا کہ 22 اگست کو پاکستان مخالف نعرے لگائے جانے اور لندن سے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی متنازع اور اشتعال انگیز تقریر اور ملکی سالمیت پر حملے اور میڈیا ہاؤسز بلخصوص اے آر وائی پر حملوں کی یہ ایوان شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایوان کسی بھی جارحیت، ہر قسم کے جرائم، تشدد، دہشت گردی اور پاکستان مخالف نعروں کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ متعلقہ افراد کے خلاف قانون اور آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ایم کیو ایم کی اس قرار داد کی تمام جماعتوں نے حمایت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن خیر النساء مغل، تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان اور مسلم لیگ ف کے رکن نصرت سحر عباسی نے قراردادیں پیش کیں جن میں پاکستان فوج اور میڈیا سے یکہجتی کا بھی اظہار کیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم کے رہنما اور قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایم کیو ایم چھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں چلے جائیں تو وہ بھی صاف شفاف اور قابل قبول ہو جائیں گے اور اس کے بعد ان کی حب الوطنی پر بھی شک نہیں کیا جائے گا۔

22 اگست کے روز کی صورتحال کے بارے میں انھوں نے ایوان کو بتایا کہ اُس روز صبح تک تمام معاملات معمول کے مطابق چل رہے تھے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اظہار یکجہتی کر رہے تھے اور مطالبات کو جائز طریقے سے حل کرانے کی یقین دہانی کرا رہے تھے۔ انھوں نے کہا اس وقت توقع تھی کہ شام تک کوئی حکومتی وفد آئے گا اور بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

خواجہ اظہار نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ٹیلیفون کر کے انھیں صورتحال سے آگاہ کیا تو انھوں نے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی حمایت کی لیکن اس کے بعد اس رات ان کے ساتھ جو ہوا وہ کسی قیامت سے کم نہیں۔

گذشتہ ہفتے خواجہ اظہار الحسن کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے ایس ایس پی کو معطل کر کے خواجہ اظہار کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔

خواجہ اظہارالحسن نے ایوان کو بتایا کہ 22 اگست کی صورتحال کے بعد ان کے پاس تین آپشن موجود تھے، پہلا موبائل بند کر کے ملک چھوڑ جائیں، دوسرا یہ کہ کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں اور تیسرا راستہ وہ ہی تھا جس پر وہ چل رہے ہیں اور یہ ہی سب سے خطر ناک آپشن ہے ۔

ایم کیو ایم کے سرگرم رہنما فیصل سبزواری نے بھی بدھ کے روز ایوان میں خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 6 کی بات کرنے والا آئین مساوات کی بھی بات کرتا ہے۔ ’میں مہاجر نہیں ہوں، پاکستان میں پیدا ہوا، پاکستانی ہوں، میں نے سندھی پڑھی ہے۔ اب یہ سوچنا ہوگا کہ اکثریت کے باوجود کبھی ایم کیو ایم کا چیف منسٹر کیوں بننے نہیں دیا گیا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں