’ لائن آف کنٹرول پر غیر یقینی کی فضا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اوڑی کے مقام پر ہونے والے حملے کے بعد لائن آف کنٹرول پر فضا کشیدہ ہے۔

ایک طرف انڈیا کی فوجوں کے حملے کے لیے تیار ہونے کی خبریں آ رہی ہیں تو دوسری جانب پاکستانی فوج بھی سرحدوں پر چوکنا ہے۔ اس ساری صورتحال میں لائن آف کنٹرول پر بسنے والے لوگ غیر یقینی کا شکار ہیں۔

چکوٹھی اور اس کے نواحی علاقے اوڑی سے کافی قریب ہیں۔ چکوٹھی کا بازار، ہسپتال، کالجز اور سکولز ایسے مقام پر ہیں جو بھارتی فائرنگ کی براہ راست زد میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu

ایل او سی کےقریب تمام سرکاری سکولوں کو بند کر دیاگیا ہے۔ تاہم بعض نجی سکولوں میں امتحانات کے پیشِ نظر فوج نے سکول انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ حالات خراب ہونے کی صورت میں بچوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں اور اگر ایسا ممکن نہیں تو سکول ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu

فوج کا علاقے میں گشت بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ ’ابھی علاقہ چھوڑ کر جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو ہم خود اعلانات کروائیں گے جس کے بعد سب اپنے خاندان کو محفوظ جگہ پر منتقل کریں۔‘

فوج نے مقامی لوگوں کو بھی ہوشیار رہنے کی تلقین کی اور کہا کہ اگر علاقے میں وہ کوئی مشبتہ اور اجنبی شخص دیکھیں تو فوج کو مطلع کریں۔

لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں کی جانب جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں سے کہاگیا ہے کہ وہ اوور لوڈنگ نہ کریں تاکہ اچانک فائرنگ کے نتیجے میں انہیں علاقے سے نکلنے میں مشکل نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu

فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت اور میڈیا میں آنے والی سنسنی خیز خبروں کے بعد بیشتر مقامی لوگ غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے بچوں کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔

کئی مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کم سے کم تین تین خاندانوں کو ایک محفوظ بنکر بنا کر دے دیا جائے تو کسی بھی اچانک کشیدگی کے نتیجے میں انہیں فوری تحفظ مل جائے

چکوٹھی کی رہائشی حنف بی بی نے فوری اور بنیادی ضرورت کا سامان اپنے گھر کے اندر بنے چھوٹے سے بنکر میں منتقل تو کیا ہے لیکن انہیں اس سے بھی کوئی خاص امید نہیں ہے۔

یہ بنکر وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہو چکا ہے اور اس کی چھت اور دیواروں میں واضح دراڑیں ہیں۔

یہ علاقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کی متنازعہ سرحد یعنی لائن آف کنٹرول سے محض تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ابھی تک اس علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ تو نہیں ہوا لیکن کشیدگی یہاں شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں