’پانچویں جنگ سوشل میڈیا پر لڑی جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سوشلستان کے باسیوں کے بس میں ہو تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کل کی بجائے آج اور ابھی ہو جائے۔

ٹویٹس میزائل بن جائیں، فیس بُک سٹیٹس جنگی طیارے اور لوگ بمبار بن جائیں۔ تو سب سے پہلے اسی موضوع پر بات کرتے ہیں۔

پاکستان انڈیا جنگ سوشل میڈیا پر

اُڑی حملے کے بعد اگر دیکھا جائے تو اچانک سے ایسے لگتا ہے جیسے ٹی وی پر نیوز اینکرز نہیں جنگی کمانڈر بیٹھے ہیں۔ اچھے خاصے ’سمجھدار لوگ‘ جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی بات ایسے کر رہے ہیں ’جیسے یہ کوئی کھیل ہو۔‘

مگر تباہی بربادی کے اس شور میں بہت سی آوازیں ہیں جو عقل و شعور اور تحمل اور بُردباری کی بات بھی کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے لکھا’ غیر ریاستی عناصر جو چاہے کریں، ہمارا میڈیا جو مرضی چاہے، ہمارے سیاستدان جو چاہے کہیں لیکن پاکستان اور بھارت کے عوام امن چاہتے ہیں۔‘

سری نگر سے رمندر جیت سنگھ نے لکھا ’ایک دوسرے سے لڑنے سے پہلے انڈیا اور پاکستان عزم کریں کہ وہ بھوک، افلاس اور بے روزگاری جیسے دوسری مسائل سے لڑیں جن سے ان کی آبادی دوچار ہے۔‘

نزہت صدیقی نے لکھا ’پاکستان اور انڈیا اپنے ملکوں سے بھوک، غربت اور ریپ کا خاتمہ تو نہیں کر پائے مگر دونوں کے پاس کھربوں ڈالر کے ہتھیار ہیں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے لیے۔‘

ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ جو آم اچار کے نام سے ہے نے لکھا ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑنے ہی والی تھی کہ بجلی چلی گئی۔‘

اور اگر یہ سب کافی نہیں تو وٹس ایپ اور میسیجز کے ذریعے لوگ ایٹمی حملے کے بعد کی صورت حال اور بچاؤ کی ترکیبیں اور نجانے کیا کیا شیئر کر رہے ہیں۔

مگر اس سب کے بعد بھی ٹی وی شوز کی سوئی وہیں واپس جنگ و جدل پر چلی جاتی ہے۔

’فیس بک مبالغہ آرائی سے کام لے رہا ہے‘

سوشل میڈیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ نے گذشتہ دنوں اپنے ’ایڈورٹائزرز کے لیے ہیلپ سینٹر‘ پر ایک پوسٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس ویڈیو کے اوسط دیکھنے والوں کی تعداد گننے والا نظام مبالغہ آرائی کرتا تھا۔

مگر وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اس پر مزید تحقیق کرنے والوں نے جب گہرائی میں جاکر جائزہ لیا تو انھیں اندازہ ہوا کہ فیس بُک کے نظام نے 60 سے 80 فیصد تک مبالغہ آرائی کی۔

فیس بک نے ایک بیان میں کہا ہے ’اس کے ویڈیو کے اعداد و شمار کو جانچنے والے نظام میں ایک خامی تھی جسے اب درست کر لیا گیا ہے۔‘

سوال یہ ہے کہ دو سال تک اس نظام میں خامی کے بارے میں کیوں نہیں پتا چلایا گیا؟

اسی وجہ سے فیس بُک پر اشتہارات دینے والی بڑی چھوٹی کمپنیاں برہم ہیں جن کے خیال میں فیس بُک نے انھیں بہت دیر کے ساتھ باخبر کیا۔

کسے فالو کریں؟

جنگ کی باتیں کرنا ایک جانب مگر اس سے انسان کی نسلوں کی تباہی کو اگر جانا ہے تو فیس بُک پر بنایا گیا یہ پیج ضرور دیکھیں جس میں دنیا بھر میں جنگ و جدل کے نتیجے میں متاثر یا بے گھر یا تباہی سے دوچار ہونے والے انسانوں کی داستانیں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہیومنز آف وارز پیج جنگ، اسلحے کی دوڑ، تباہی اور بربادی کی بھڑکیں مارنے والوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ دیکھ سکیں کہ کس طرح حقیقت میں جنگ انسانوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

اس ہفتے کی تصویر

یہ تصاویر سعودی عرب میں پاکستانی محنت کشوں کی رہائش گاہ کی ہیں جہاں وہ وہ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے رہنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں